ڈیفنس کراچی میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا کو منشیات فراہم کرنے والے گروہ کا پتا چل گیا ہے، پولیس نے گروہ کے 4 کارندے گرفتار کر لیے ہیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ بشیر بروہی نے بتایا کہ پولیس نے آن لائن منشیات فروخت کرنے والے 4 ملزمان سعد اللہ، جماعت عرف ناصر، بلال اور اویس کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے جس میں یں 42 ڈبے کوکین، کئی کلوگرام چرس اور دو موٹر سائیکل برآمد ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ افراد آن لائن منشیات فروخت کرتے تھے، ایک ملزم سعداللہ نے ڈاکٹر ماہا کو کوکین سپلائی کی تھی۔
ایس ایس پی بشیر بروہی کے مطابق ملزم کا سراغ کال ڈیٹا ریکارڈ کے ذریعے لگایا گیا، دونوں کے درمیان کئی بار فون پر بات ہوئی تھی۔
گرفتار ملزم سعد اللہ نے ڈاکٹر ماہا علی کو موت سے چند گھنٹے قبل آن لائن آرڈر پر ایک گرام کوکین پہنچائی تھی۔ جس کے عوض 13 ہزار روپے وصول کیے۔
انہوں ںے بتایا کہ کوکین سمیت دیگر منشیات کی سپلائی کے عوض ملزمان بھاری معاوضہ وصول کرتے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان آن لائن آرڈر ملنے کے بعد 30 سے 45 منٹ کے اندر منشیات پہنچا دیا کرتے تھے، رقم کی وصولی منشیات سپلائی کرنے کے بعد موقع پر ہوا کرتی تھی۔
اس گروہ میں کسی خاتون کے ملوث ہونے کے بھی شواہد ملنے کی اطلاعات بھی ہیں جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون سمیت منشیات فروش گروہ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔