سپریم کورٹ نے سندھ میں ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کرنے والے ملزموں کی 2 ہفتوں میں گرفتاری کا حکم دے دیا۔
عدالت نے سندھ پولیس کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قراردے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں پولیس نے جو رپورٹ داخل کی ہے وہ ایک رام کہانی ہے۔
سپریم کورٹ میں ام رباب کی درخواست، ملزموں کی گرفتاری کیلئے ایک ہفتے کی مہلت
ڈی آئی جی حیدرآباد نے عدالت سے درخواست کی کہ مفرورملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مزید وقت دیا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آپ 2 مفرور ملزمان کو اگلے ہفتے تک گرفتار کرکے لائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ایک ہفتے سے زائد کا وقت نہیں دیں گے، آپ کو اور آپ کے لوگوں کو سب معلوم ہے، پولیس والے کاغذوں سے باہر نکلیں۔ دو ملزمان مفرور ہیں انہیں گرفتار کریں۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ ہمارے سامنے کس پولیسنگ کی بات کر رہے ہیں، آپ ریاست کی مشینری ہیں۔
ڈی آئی جی حیدرآباد نے کہا کہ ہماری آن گراؤنڈ کوششیں جاری ہیں، اس پر چیف جسٹس نے تنبیہ کی کہ اگر آپ نے ملزمان گرفتار نہیں کئے تو آپ نوکری سے فارغ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی صاحب آپ اس عہدے کے لیے اہل نہیں، ملزمان گرفتار نہ کیے تو سب فارغ ہو جائیں گے۔ آپ کی کوششیں کھڈے کھودنے کے مترادف ہیں۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو جو کام دیا گیا ہے، وہ کر کے آئیں، پولیس کی جمع کرائی گئی رپورٹ غیر تسلی بخش ہے۔
عدالت نے مفرور ملزمان کو دو ہفتوں میں گرفتار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت 10 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
درخواست گزار ام رباب کے والد، چچا اور دادا کو بااثر ملزمان نے قتل کردیا تھا۔ انہوں نے مقدمہ منتقلی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیا۔
ام رباب کے مطابق نامزد ملزمان ارکان سندھ اسمبلی اور بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق17 جنوری 2018 کو ضلع دادو کے تعلقہ میہڑ میں 3 افراد کے قتل کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو اور ان کے بھائی برہان چانڈیو سمیت 7 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔