قومی اسمبلی قانون و انصاف کمیٹی کے اجلاس میں سی سی پی او لاہور شیخ عمر اور رکن کمیٹی محسن نواز رانجھا کے درمیان ایک بار پھر نوک جھونک ہوئی جس پر چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے مداخلت کی اور کہا کہ ہم کمیٹی کا ماحول اچھا رکھنا چاہتے ہیں۔
محسن نواز رانجھا نے کہا کہ آپ سی سی پی او کا رویہ دیکھ لیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میں یہاں بیٹھا ہوں اس لیے مداخلت کر دی ہے جس کے بعد چیئرمین کمیٹی نے سی سی پی او لاہور اور محسن رانجھا کے درمیان ہونے والی نوک جھونک کے جملوں کو حذف کروا دیا۔
سی سی پی او لاہورشیخ عمر نے سانحہ موٹر وے پر قانو ن و انصاف کمیٹی کوتفصیلی بریفنگ دی۔ سی سی پی او لاہور نے بتایا کہ 9ستمبر کا سانحہ ہے۔ متاثرہ خاتون کے شوہر نے بیوی کو منع کیا ہوا تھا کہ اس سے پوچھے بغیر میکے وغیرہ نہ جائے۔
انہوں نے بتایا کہ رات ساڑھے 12 بجے شوہرکا فون آیا کہ بچوں سے ویڈیو کال پر بات کرائے جس پر متاثرہ خاتون نے تھوڑا سا ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے کہا کہ تھوڑی دیر میں بات کراتی ہوں۔ جس کی وجہ سے وہ بچوں کو لے کر جلدی سے لاہور سے گوجرانوالہ کے لیے نکلی۔
سی سی پی او کے مطابق خاتون کو ڈر تھا کہ کہیں شوہر کو علم نہ ہو جائے کہ اس کی نافرمانی کی ہے۔ پیٹرول ختم ہونے پر گاڑی رک گئی تھی، ایف ڈبیلو او نے ڈیلیوری وین بھیجی۔ وین پہنچنے تک یہ سانحہ ہو چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پاس سے گزرتے ہوئے شخص نے جب 15 پر کال کی تو 28 منٹ میں ڈولفن پولیس موقع پر پہنچ گئی مگر انہوں گاڑی کا ٹوٹا ہوا شیشہ دیکھا اور وہاں خون نظر آیا۔ جس کے بعد ڈولفن کے اہلکار ساتھ جنگل کی طرف گئے اور کھسر پھسر پر ڈولفن اہلکاروں نے فائر کیے۔خاتون کے چلانے پر اہلکار اس کے پاس پہنچے۔
سی سی پی او نے بتایا کہ جب مجھے اطلاع ہوئی تومیں نے ایس پی سے کہا کہ وہ خود جائیں اور زیادہ خواتین اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے جائیں۔ گوجرانوالہ اور قصور سے فوری طور پر کھوجی بلوائے گئے۔ 5 سانٹیفک طریقوں سے کام شروع کیا، اس لیے کہا تھا کہ 48 گھنٹوں میں مجرموں کو تلاش کر لوں گا۔
انہوں نے کہا کہ خاتون کا ڈی این اے کیا گیا، جیو فینسگ کی گئی۔ جب شفقت کو اٹھایا تو اس نے ہر مجرم کی طرح پہلے انکار کیا پھر سب کچھ مان گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ لنک روڈ پر واردات کرنے کے لیے گئے تھے اور اپنے تیسرے ساتھی کو فون کر رہے تھے کہ اسی اثناء میں انہیں یہ موقع مل گیا۔۔
سی سی پی او لاہور نے مزید کہا کہ پنجاب کا ہر کیس ورک آؤٹ ہو گا۔ انہوں نے کہا اس سانحہ پر ہماری 25 ٹیمیں ابھی تک کام کر رہی ہیں۔
شیخ عمر نے کمیٹی کو بتاتے ہوئے کہا کہ مفرور ملزم عابد ملہی لنک روڈ پر وارداتیں کرتا تھا کسی بڑے وڈیرے کا اس پر ہاتھ نہیں ورنہ اب تک وہ مل چکا ہوتا۔ وہ خود کہتا کہ میری جان چھڑائیں۔ عابد ملہی ڈرا ہوا ہے کہ کہیں اسے مار نہ دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی مزار پر ہو۔
رکن کمیٹی محسن نواز رانجھا نے سی سی پی او شیخ عمر کی محنت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا پرانا سفارشی ہوں، سی سی پی اونے محسن نواز رانجھا کے سامنے ایک بار پھر ہاتھ جوڑ دیے۔
گزشتہ روز محسن نواز رانجھا نے استحقاق کمیٹی میں سی سی پی او لاہور پر خوب چڑھائی کی تھی۔ قومی اسمبلی قانون و انصاف کمیٹی نے سانحہ موٹر وے کیس پر سی سی پی او شیخ عمر کی کاوشوں کو سراہا۔
متاثرہ خاتون کی تصویر نہ چلانے اور شناخت ظاہر نہ کرنے پر قانون و انصاف کمیٹی نے پولیس کی تعریف کی۔
چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے سانحہ انتہائی افسوسناک تھا، دنیا بھر میں بدنامی ہوئی۔ انہوں نے سی سی پی او لاہور سے کہا کہ میڈیا کے سامنے سوچ سمجھ کر بات کیا کریں تاکہ بعد میں جگ ہنسائی نہ ہو۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک ہی ہیلپ لائن ہوتی ہے، یہاں بھی ایک ہیلپ لائن ہونی چاہئے۔
چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ موٹر وے پولیس ایک ہیلی کاپٹر بھی خرید لے، ٹال ٹیکس بہت بڑھا دیا گیا ہے، کچھ خرچ بھی کر لیں۔
ن لیگی ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ کچھ واقعات تاریخ میں نقوش چھوڑ جاتے ہیں جیسے زینب کا واقعہ تھا اور یہ سانحہ ہے۔ رکن کمیٹی عطا اللہ نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کا ایکشن بہترین ہے۔
رکن کمیٹی محمود بشیر ورک نے کہا کہ معاشرہ جس حد تک گر چکا ہے اس کو اٹھانے کے لیے کیا کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کی واضح شناخت ظاہر نہ کریں اس سے وہ بھاگ جاتے ہیں ۔
قانو ن و انصاف کمیٹی نے ریپ کے10سال کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا