سانحہ آرمی پبلک سکول کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاک فوج ضربِ عضب میں کامیاب رہی لیکن سانحہ اے پی ایس نے اس کامیابی کو داغدار کر دیا اور اس واقعہ نے ہمارے سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
سانحہ اے پی ایس رپورٹ 525 صفحات اور 4 حصوں پر مشثمل ہے، رپورٹ کمیشن کے سربراہ جسٹس محمد ابراہیم خان نے مرتب کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئی ایجنسی چاہے کتنے ہی وسائل کیوں نہ رکھتی ہو ایسے واقعات روکنے میں ناکام ہو جاتی ہے جب اندر سے ہی مدد فراہم کی گئی ہو، سکیورٹی کی تین پرتیں جن میں گیٹ پر موجود گارڈز، علاقے میں پولیس گشت اور کوئیک رسپانس فورس کی 10 منٹ کے فاصلے پر موجودگی اس دھویں کی طرف متوجہ ہو گئی جو منصوبے کے تحت ایک گاڑی کو آگ لگانے کی وجہ سے اٹھا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے نتیجے میں سیکیورٹی کی توجہ آرمی پبلک سکول سے ہٹ گئی اور دہشتگرد وہاں داخل ہو گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ملک دہشگردی کے خلاف جنگ میں برسرپیکار رہا، اس دوران ملک میں دہشتگردی اپنے عروج پر پہنچی، اس کے باوجود ہماری حساس تنصیبات یا سافٹ ٹارگٹس پر ہونے والے حملوں کو جنگ کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، ہمارا شمال مغربی بارڈر بہت وسیع اور غیر محفوظ ہے، شمال مغربی بارڈر سے حکومت اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت مہاجرین کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ ان حقائق کے باوجود انتہا پسند عناصر کو مقامی آبادی کی طرف سے مدد فراہم کیے جانا ناقابلِ معافی جرم ہے.
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب اپنا ہی خون دغا دے تو ایسے ہی تباہ کن سانحات رونما ہوتے ہیں، ایسے عناصر کی وجہ سے ناصرف محدود وسائل میں کیے سیکیورٹی انتظامات ناکام ہوتے ہیں بلکہ دشمن کو ناپاک عزائم پورے کرنے میں مدد ملتی ہے، سکول کے پیچھے گشت پر موجود فورس جلتی ہوئی گاڑی کی جانب چلی گئی، سکیورٹی فورسز کا دوسرا دستہ بروقت سکول کی حفاظت کو نہ پہنچ سکا، دوسرا دستہ ریپڈ رسپانس فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے آنے تک دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام رہا، نتیجتاً اندوہناک سانحہ رونما ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے سے متعلق نیکٹا نے وارننگ جاری کر رکھی تھی، نیکٹا وارننگ کے مطابق دہشتگرد کسی بھی آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنا سکتے تھے، وارننگ کے مطابق دہشتگردوں کا مقصد فوجیوں کے بچوں کو نشانہ بنانا تھا، سکیورٹی پر تعینات اہلکار نا صرف آنے والے حملہ اوروں کو روکنے کے ناکافی تھے بلکہ ان کی پوزیشن بھی درست نہیں تھی۔
رپورٹ کے مطابق سکیورٹی کی تمام توجہ مین گیٹ پر تھی جبکہ سکول کے پچھلے حصے پر کوئی سکیورٹی تعینات نہیں تھی جہاں سے دہشتگرد بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوئے، سکیورٹی پر مامور گارڈز کی صلاحیت دہشتگردوں کو روکنے کے لیے ناکافی تھی، کوئیک رسپانس فورس اور ایم وی ٹی۔2 کے اہلکاروں نے بچوں کے بلاک کی طرف بڑھتے ہوئے دہشتگردوں کی پیشرفت کو روکا،ایم وی ٹی۔1 کو غفلت برتنے پر تحقیقات کے بعد سزا دی جا چکی ہے.