وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حزب اختلاف نے استعفے دیے تو ان کی خالی کی گئی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرا دیں گے۔
سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کا ایجنڈا یہ ہے کہ حکومت کو فوج کے ساتھ لڑایا جائے۔
اے پی سی: حکومت کو نئے انتخابات کے لیے جنوری تک کا وقت دینے کا فیصلہ
وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، اے پی سی کے اعلامیہ کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ
نوازشریف کی تقریر کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اسے نشر کرنے کی اجازت دینا درست فیصلہ تھا تاہم یہ تقریر بھارت کے بیانات کا عکس تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف سیاسی کھیل سے باہر ہو چکے ہیں، حکومت اور عسکری اداروں کے درمیان تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہمیں اپوزیشن کے استعفوں کا کوئی خوف نہیں ہے تاہم ہمارے کچھ وزیر اپنی طرف گول کر دیتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں نظم و ضبط بنانا ممکن نہیں، ہرجماعت میں اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے، میرا وژن پاکستان ہے جس کے ہاتھ میں کشکول نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپشن پر کسی کو بھی این آر او نہیں دوں گا، یوٹرن ہمیشہ ایک مقصد کے لیے ہوتا ہے، میں نے پاکستان میں سب سے زیادہ اسٹریٹ پاور استعمال کی۔
عمران خان نے کہا کہ ن لیگ ہو یا ش لیگ یہ لوگ صرف خاندانی سیاست کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان کو اس لیے ساتھ رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لوگ نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ہونے والی اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں سندھ اور قومی اسمبلی سے استعفوں کو بھی آخری مرحلے میں استعمال کرنے کا آپشن رکھا گیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان اسمبلیوں سے فوری استعفے کے حق میں ہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اس حوالے سے مختلف رائے رکھتی ہے، ذرائع کے مطابق نواز شریف نے بھی مولانا فضل الرحمان کی رائے سے اتفاق ظاہر کیا ہے۔