مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) کی ٹیم نے جہانگیر ترین کی شوگر مل کے ہیڈ آفس پر چھاپہ مار کر ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین نے حال ہی میں ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیے جانے پر اپنا تحریری جواب جمع کرایا ہے۔ وہ کچھ عرصہ قبل لندن چلے گئے تھے جہاں وہ اپنا علاج کرا رہے ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن میں جہانگیر ترین کی حکمرانی کا خاتمہ
چینی تحقیقاتی رپورٹ میں انصاف نہیں ہوا، ہر چیز کے لیے تیار ہوں، جہانگیر ترین
سی سی پی کا ایک اہم کام اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ کسی شعبے کے بڑے صنعتکار مل کر کارٹلز بنا کر عوام کا استحصال تو نہیں کر رہے۔ شوگر کے کاروبار میں بھی اسی حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔
لاہور میں جمال دین ولی ملز (جے ڈی ڈبلیو) کے ہیڈ کوارٹرز پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے اور تمام ریکارڈ سی سی پی نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
اس سے پہلے 14 ستمبر کو سی سی پی نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے اور ریکارڈ کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر فائلز بھی ضبط کر لی تھیں۔
ڈان نیوز کے مطابق سی سی پی کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ پی ایس ایم اے اور جے ڈی ڈبلیو ملز کے ایک سینئر عہدیدار کے مابین ای میل کے ذریعے بات ہوئی ہے جس میں ایسی حساس تجارتی معلومات شیئر کی گئی ہیں جن سے مارکیٹ میں کارٹل بنانے کے اشارے ملتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایس ایم اے کے واٹس ایپ گروپ کے معائنہ سے انکشاف ہوا ہے کہ جے ڈی ڈبلیو گروپ کا وہی سینئر عہدیدار چینی کی قیمتوں اور اسٹاک کے اعداد و شمار کے بارے میں جانتا تھا۔