وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی سرحدوں پر جارحیت کے باوجود پاکستان ضبط کا مظاہرہ کر رہا ہے، اگر بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت کی تو قوم اس کا بھرپور جواب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئے پاکستان کی بنیاد ریاست مدینہ کے اصولوں پر رکھی تاہم ایسی حکومت قائم کرنے کے لیے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں علاقائی امن و سلامتی کو اولیت حاصل ہے اور ہمارا مؤقف ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے، اس موقع پر ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا جو وعدے بطور اقوام متحدہ ہم نے اقوام سے کیے تھے وہ پورے کرسکے؟
انہوں نے کہا کہ آج طاقت کے یکطرفہ استعمال سے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جا رہا ہے، اقوام کی خود مختاری پر حملے کیے جا رہے ہیں، داخلی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے اور منظم طریقے سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے، سپر پاور بننے کے خواہاں ممالک کے درمیان اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے، تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، فوجی مداخلت اور غیر قانونی انضمام کے ذریعے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جا رہا ہے۔
کورونا وائرس پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس نے دنیا کو متحد ہونے کا پیغام دیا ہے، ہمیں پیغام ملتا ہے کہ دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی شخص محفوظ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا نے دنیا بھر میں غریب اور نادار افراد کو سخت متاثر کیا، پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی، پاکستان میں ہم نے سخت لاک ڈاؤن نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کثیر الجہتی اشتراک سے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں، جب سے ہماری حکومت آئی، ہم نے عوام کی بہتری کیلئے کوششیں کیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران 8 ارب ڈالر سے صحت سہولیات اور غریب افراد کی مدد کی گئی، ہم نے 3 سال میں 10 ملین درخت لگانے کا منصوبہ بنایاہے، حکومت کی تمام پالیسیوں کامقصد شہریوں کے معیار زندگی میں اضافہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف کورونا سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے بلکہ معیشت کو بھی استحکام دیا، ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں مہلت سے ریلیف ملا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی محفوظ نہیں، ہمیں کثیر الجہتی اشتراک سے مسائل کو حل کرنا ہے، امریکی مفکر نوم چومسکی کے مطابق پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بار پھر دنیا خطرے میں ہے، نئی مخالف طاقتوں کے درمیان اسلحہ کی نئی دوڑ چل رہی ہے، ہم اس سخت وقت میں سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی قیادت کو بھی سراہتے ہیں۔
غریب ممالک سے غیرقانونی طور پر اربوں ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے جانے والے سیاست دانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امیر ملک منی لانڈرنگ کرنیوالوں کو تحفظ دیکر انصاف کی بات نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پیسہ جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوسکتا ہے وہ کرپٹ سیاستدان ملک سے باہر لے جاتے ہیں اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی سے کرنسی کی قدر گر جاتی ہے اور پھر مہنگائی اور غربت بڑھتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چوری ہونے والے اس پیسے کو واپس لانا قریب قریب ناممکن ہے کیوں کہ اس عمل میں کافی پیچیدگیاں ہیں اور منی لانڈرنگ کرنے والے طاقت ور افراد ایسا ہونے نہیں دیتے کیوں کہ انہیں بہترین وکلاء کی خدمات حاصل ہوتی ہیں اور چونکہ امیر ملک کو غریب ملک سے آنے والے پیسے سے فائدہ ہوتا ہے لہذا وہ امیر ملک بھی اسے روکنے کی زیادہ کوشش نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا اور بالآخر ہمیں بہت بڑے عالمی بحران کا سامنا ہوگا جو حالیہ مہاجرین بحران سے بھی بڑا ہو گا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں اس اسمبلی پر زور دیتا ہوں کہ وہ ممالک سے غیر قانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل کو روکنے کیلئے ایک عالمی فریم ورک تشکیل دے اور چوری شدہ رقم کی متعلقہ ملک کو واپسی یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عالمی امداد کے نام پر غریب ممالک کو ملنے والی رقم اس رقم کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہوتی ہے جو اس ملک کے کرپٹ لوگ غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر لے جاتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پر ہمیں پریشان ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر دنیا دے سکیں۔
گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسم شدید ہو گئے ہیں، آسٹریلیا، امریکہ کے جنگلوں میں آگ لگ رہی ہے، دنیا بھر میں بارشوں اور سیلاب میں اضافہ ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیرس معاہدے پر مکمل طور پر عمل کرنا چاہیے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس دنیا کو متحد کرنے کا بہترین موقع تھا لیکن اس کے بجائے مختلف ممالک، قوموں، مذاہب اور فرقوں کے درمیان مزید اختلافات بڑھ گئے۔
انہوں نے کہا کہ انہی اختلافات نے اسلام مخالف جذبات کو بھڑکایا اور مختلف ممالک میں مسلمانوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا، مزارات کو توڑا گیا، ہمارے نبی ﷺ کی توہین کی گئی، قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اور یہ سب کچھ آزادی اظہار رائے کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو میں دوبارہ شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے اس کی مثال ہیں۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اسلاموفوبیا کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمی یوم منانے کا اعلان کیا جائے۔
بھارت میں مسلمانوں سے ہونے والی زیادتیوں پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ دنیا میں ایک ایسا بھی ملک ہے جہاں ریاستی سرپرستی میں اسلام مخالف سرگرمیاں جاری ہیں اور وہ ملک بھارت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے جو بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں برسر اقتدار ہے۔