مصر میں رشتہ داروں کی شادی میں ایک فرد کی شرکت کرنے کے باعث کورونا میں مبتلا ہونے والا پورا خاندان جاں بحق ہو گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ماں نے اپنے بھتیجے کی شادی میں شرکت کی جہاں پر وہ کورونا وائرس سے متاثر ہو گئی، گھر آنے کے بعد اس نے خاوند اور 2 بچوں تک یہ وائرس منتقل کر دیا۔
26 اگست کو محمد الفنگاری نام کے ایک فارماسسٹ نے فیس بک پر بتایا کہ ان کی والدہ کورونا کے باعث چل بسی ہیں۔
10 روز بعد انہوں نے اپنے والد کے کورونا سے فوت ہونے کا بتایا اور 3 روز بعد ان کا بھائی بھی اس وبا کے ہاتھوں دنیا سے رخصت ہو گیا۔
چند روز بعد انہوں نے فیس بک پر بتایا کہ وہ خود بھی کورونا میں مبتلا ہو گئے ہیں، بعد ازاں مصری میڈیا نے بتایا کہ الفنگاری بھی انتقال کر گئے ہیں۔
اپنی موت سے قبل انہوں نے کئی فیس بک پوسٹیں کیں جن میں اپنے خاندان کے افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے کے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وبا کا شکار ہونے کے متعلق تضحیک آمیز رویہ اختیار نہ کریں۔
الفنگاری نے لکھا کہ مارچ سے ہی ہم انتہائی احتیاط کر رہے ہیں اور گھر تک محدود رہے ہیں، صرف ایک بار میری والدہ نے شادی کی تقریب میں شرکت کی جہاں وہ کورونا سے متاثر ہوئیں اور پھر یہ انفیکشن خاندان کے دیگر افراد میں بھی پھیل گئی۔
مصر میں کورونا وبا کا زور ٹوٹ رہا ہے اور نئے کیسز کی تعداد 120 کے آس پاس ہے تاہم اموات کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔
مصر کی صحت اور آبادی کی وزارت کے مطابق کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 2 ہزار ہے جن میں سے 5822 افراد انتقال کر گئے ہیں جبکہ 92 ہزار کے قریب صحتیاب ہو چکے ہیں۔