سونگھنے والے کتے دنیا کے ہر ایئرپورٹ پر نظر آتے ہیں جن کا مقصد غیرقانونی مواد اور منشیات کا سراغ لگانا ہوتا ہے مگر اب یہ کورونا سے متاثرہ مسافروں کا پتا بھی چلا سکیں گے۔
فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلنسکی کے ایئرپورٹ پر کورونا کا سراغ لگانے کے لیے تربیت یافتہ کتوں کا تجرباتی استعمال شروع ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے 15 کتوں اور ان کے 10 انسٹرکٹرز کی تربیت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ہیلنسکی کی پروفیسر اینا ہیلم اس تجرباتی پروگرام کی نگران ہیں، انہوں نے خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ یہ کتے کسی بھی شخص میں کورونا کی علامات ظاہر ہونے سے 5 روز قبل وائرس کا سراغ لگا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کورونا کا پتا چلانے میں بہت مہارت رکھتے ہیں اور ہم تقریباً 100 فیصد کامیابی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

مسافر اپنی گردن کو کپڑے سے صاف کرتے ہیں اور پھر یہ کپڑا ایک کین میں ڈال دیا جاتا ہے جسے سونگھنے کے لیے کتوں کے سامنے لایا جاتا ہے، اس طریقے سے چند منٹ میں ہی کورونا کا ٹیسٹ ہو جاتا ہے۔
اگرچہ اس تجربے میں ابتدائی طور پر کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن ابھی اس میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اس ٹیسٹ کی درستی ثابت کی جا سکے۔

جو مسافر اس تجرباتی مرحلے میں شریک ہیں، انہیں اپنا لعاب دہن بھی ساتھ شامل کرنا پڑتا ہے تاکہ نتائج کو کنفرم کیا جا سکے۔
شہر کی ڈپٹی میئر ٹیمو ارون کیٹو کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ مستقبل میں کسٹمز والے کتوں کی طرح کورونا کا پتا چلانے والے کتے بھی ایئرپورٹ پر مسافروں کو سونگھ کر ہی اس کا سراغ لگا لیں۔