مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ نواز شریف نے مسلح افواج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 500 ارب دیے جس سے فوج مالی طور پر مستحکم ہوئی اور جنگ جیتی۔
ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب جسم کے کسی ایک عضو کے خلیے بے قابو جائیں تو کینسر پیدا ہوجاتا ہے اور پورے جسم کو ختم کر دیتا ہے، ریاست بھی ایک جسم کی مانند ہے، جب کوئی ادارہ دوسرے اداروں پر فوقیت حاصل کرے گا تو ریاست کینسر کا شکار ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک امریکی مصنف نے 22 سال قبل پاکستانی ریاست کے ناکام ہونے کی پیش گوئی کی تھی، اس نے کہا تھا کہ بظاہر اختیارات پارلیمنٹ کے پاس ہیں لیکن اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے، افسوس کہ اس کی پیش گوئی سچ ثابت ہو گئی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ عسکری قیادت کو بتانا چاہتا ہوں ہائبرڈ وار فوج نہیں قوم کے خلاف ہوتی ہے اور اس کا مقابلہ بھی قوم نے کرنا ہوتا ہے، جس ملک میں اپوزیشن کو غدار ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو وہ ہائبرڈ وار نہیں جیت سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہائبرڈ وار ملک میں انتشار پھیلانا ہے، جو لوگ قوم کو تقسیم کررہے ہیں وہ ہائبرڈ وار کے آلہ کار ہیں۔ 1973 کا آئین ملک کے دفاع کا ضامن ہے، یہ کمزور ہوا تو ملک کمزور ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست جبر کے ساتھ نہیں چل سکتی، جس ملک میں شہری کے ووٹ کی حرمت، انصاف اور پارلیمنٹ کی خودمختاری سے اعتبار ختم ہو جائے اس ملک میں ہائبرڈ وار کی ضرورت نہیں رہتی، ریاست خود ختم ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دور ایٹمی ہتھیاروں، ٹینکوں اور میزائلوں کا نہیں ہے، سوویت یونین کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ تھا لیکن معاشی کمزوری کے باعث ٹوٹ گیا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2013 میں ملک کو بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا سامنا تھا، نواز شریف کی قیادت میں ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا۔ انہوں نے دورہ چین کے دوران سی پیک کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
انہوں نے کہا کہ 67 سالوں میں پاکستان میں صرف 18 ہزار میگا واٹ بجلی بنی، مسلم لیگی حکومت نے 4 سال میں 11 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرکے ریکارڈ بنایا۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان بنانے کا مقصد مسلمانوں کی خوشحالی تھا، غربت جہالت اور بےروزگاری کے خاتمے تک پاکستان بنانے کا مقصد پورا نہیں ہوگا، اگر بھارت کا مسلمان ہم سے زیادہ مستحکم ہوا تو قائد کے پاکستان بنانے کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟
نون لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ووٹ کی حرمت نہیں ہے تو دور افتادہ علاقوں میں کیا ہوگی، آج پارلیمنٹ میں بھی ووٹوں کی گنتی کی گارنٹی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خطاب سے حکومت کو مرچیں لگ گئیں، انہوں نے اداروں کو حدود میں رہ کر کام کرنے کی بات کی، ہم نے حلف لیا ہے ملک کے آئین کی حفاظت کریں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف آئیں کی بالادستی کے لیے مشکلات کاٹ رہے ہیں، شہباز شریف آئین و قانون کی بالادستی کے لیے بیٹیوں کے ساتھ عدالتوں میں دھکے کھا رہا ہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ الیکشن میں پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈالنے والی جماعت دھاندلی سے باہر کردیا گیا، سندھ اور خیبرپختونخوا میں پچھلی حکومتیں واپس آئیں لیکن پنجاب میں شہباز شریف کو نہ آنے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ کرکے اقلیتی جماعت کو حکومت دی گئی۔
رہنما مسلم لیگ (ن) کے مطابق پاکستان میں ووٹ گنے نہیں جاتے روند دیے جاتے ہیں، سینیٹ الیکشن میں جو کچھ ہوا قوم کے سامنے ہے، قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی مشیروں کو لا کر اپوزیشن کی اکثریت ختم کی گئی۔ آج پاکستان کی پارلیمنٹ میں بھی ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی ہوجاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان کو ایک سال جیل میں رکھا، جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتے جاوید ہاشمی کے بال سفید ہو گئے، ان سے پوچھیں کیا آج وہ ملک کو لیکر پر امید ہیں کہ مایوس ہیں،
انہوں نے کہا کہ مضبوط فوج ضرورت ہے لیکن اکیلی فوج ملک کی حفاظت نہیں کرسکتی، معیشت کمزور ہوئی تو فوج کی تنخواہوں کے پیسے نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء آئین اور قانون کے لیے ایٹمی اثاثے کی مانند ہیں، جہاں سیاسی جماعتوں کے پر جلتے ہیں وہاں سے وکلاء کی اڑان شروع ہوجاتی ہے،
احسن اقبال نے کہا کہ تخلیق کے 73 سال بعد پاکستان جس جگہ کھڑا ہے سب کے سامنے ہے، افسوس ہے کہ ملک کا سیاسی نظام مضبوط نہ ہونے دیا گیا، ہم چار قدم آگے چلتے ہیں تو چھ قدم پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1999 میں ایشیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی معیشت پاکستان کی تھی، 1999 میں فی کس آمدنی بھارت سے زیادہ تھی جبکہ آج آج روپیہ افغان کرنسی سے بھی کم ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں آج ہماری گروتھ ریٹ سب سے کم ہے، دیگر تمام ممالک پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں۔
Ahsan Iqbal’s speech real picture of today’s Pakistan