چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے ریلوے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ریلوے ٹریک کے ساتھ زمین پر قبضہ ختم کرائیں اور تمام زمین واگزار کرائیں۔
ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹریک کے ساتھ زمین پر قبضہ ہے، ٹرین کیسے چلے گی؟ ٹریکٹر لیکر جائیں اور ساری تجاوزات گرا دیں۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف تعمیرات کی گئی ہیں اور عمارتیں بنی ہوئی ہیں، ٹرین کس طرح چلے گی؟
سی ای او ریلوے نے جواب میں کہا کہ سندھ حکومت سے ہم پوسٹ لیکر تمام تجاوزات ختم کریں گے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ایسی بات نہیں کرنی، ذمہ دار آفیسر بن کر دکھائیں اور خود جا کر دیکھیں کہ کس قدر تجاوزات کی گئی ہیں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ سرکاری زمین کی آپ کو پرواہ نہیں، آپ نے اپنی رپورٹ میں تصویریں لگا دیں، اس سے تو کچھ پتہ نہیں چلتا، تصویروں میں تو آپ کی ساری زمین میں تجاوزات نظر آ رہی ہیں۔
جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ ریلوے پٹری کے ساتھ ساتھ 4 فٹ کے فاصلے پر عمارتیں بنی ہوئیں ہیں، ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف کھلی جگہ چھوڑنی چاہیے۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فالتو چیزیں لاکر ہمارے پاس ڈمپ کر دیتے ہیں۔
سرکلر ریلوے کراچی کی بحالی کے متعلق کیس
سپریم کورٹ میں سرکلر ریلوے کراچی کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں وکیل ریلوے نے کہا کہ محکمے نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
سی ای او ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ٹرین کے چلنے کے لیے راستہ کلیئر ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ذمہ دار افسر کی طرح بات کریں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ جن زمینوں پر قبضہ ہے کیا وہ ریلوے کی زمین نہیں ہے؟ ریلوے کو تو سب کچھ کلیئر کر کے یہاں آجانا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جو تصویریں لگائی ہیں اس سے تو لگتا ہے کوئی کام نہیں ہوا، اس میں لگتا ہے کہ فیکٹریاں چل رہی ہیں۔
سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ٹریک کے اطراف جو ریلوے بلڈنگز ہیں فنسنگ کے بعد سب ختم ہوجائیں گی۔
جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ 16 سال سے پہلے ریلوے ٹریک کیسی تھی، اب آپ تجاوزات دیکھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ تعمیرات ایسی نہ ہوں جو شہر پر دھبہ بن جائیں۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریلوے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
انڈرپاسز کا معاملہ
چیف جسٹس نے انڈرپاسز کے معاملہ پر سندھ حکومت کے حکام سے دریافت کیا کہ انڈر پاسز بنانے کیلئے حکومت نے اب تک کیا اقدامات کئے، جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ 3 ماہ میں 10 انڈر پاسز بنانے کا حکم دیا تھا۔
سندھ حکومت کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ایف ڈبلیو او نے تمام انڈر پاسز کا سروے مکمل کر لیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ زمین میں کیا کام ہوا ہے وہ بتائیں، حکام نے جواب میں کہا کہ ایف ڈبلیو او نے سروے اور لاگت کے حوالے سے بتا دیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کام تو 3 ماہ میں مکمل کرنا تھا، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ اس طرح تو 3 ماہ گزر جائیں گے۔
عدالت کے استفسار پر حکام سندھ حکومت نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او اور ریلوے کے معاملات فائنل ہو جاتے ہیں تو 6 ہفتے میں مکمل ہو گا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کی طرف سے کوئی رکاوٹ تو نہیں؟
سندھ حکومت کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کل جو میٹنگ ہوئی ہے اس میں طے ہوا ہے کہ ایف ڈبلیو او ڈیزائن کرے گا۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بات سن لیں، جو بھی کام کریں گے خوبصورت اور دیرپا ہونا چاہیے۔