امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 3 سائنسدانوں نے ہیپاٹائٹس سی کا وائرس دریافت کرنے پر طب کا نوبیل ایوارڈ جیت لیا۔
امریکہ کے ہاروے جے آلٹر، چارلس ایم رائس اور برطانیہ کے مائیکل ہوگٹن نے جگر کے کینسر کا باعث بننے والے ہیپاٹائٹس سی کا وائرس دریافت کر کے میڈیسن کے شعبے میں اہم پیش رفت کی تھی۔
تینوں سائنسدانوں نے 1960 کے بعد خون میں موجود خفیہ وائرس کی تحقیق شروع کی اور کئی سال کی محنت کے بعد ہیپاٹائٹس بی اور سی کو دریافت کرلیا تھا جس کے بعد اس کے علاج کی جانب پیش رفت آسان ہو گئی تھی۔
نوبیل پرائز کمیٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق رواں سال کے طب کے انعام کی رقم تینوں سائنسدانوں میں مشترکہ طور پر تقسیم کی جائے گی۔
نوبیل کمیٹی کے سربراہ تھامس پرلامن نے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ایوارڈ یافتہ سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کیا۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 7 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سے متاثر ہیں جب کہ ہر سال 4 لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماری دائمی ہے اور جگر کی سوزش اور کینسر کا باعث بنتی ہے۔
رواں ماہ میں اس کے علاوہ فزکس، کیمسٹری، اکنامکس اور لٹریچر کے شعبے میں 5 ایوارڈ مزید دیے جائیں گے۔
رواں سال دیے جانے والے میڈیسن ایوارڈز کورونا وبا کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ان ایوارڈز نے دنیا بھر کی معیشت اور معاشروں کے لیے تحقیق کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ سال بھی امریکہ اور برطانیہ کے سائنسدانوں نے جسمانی خلیوں سے متعلق تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے پر ایوارڈ وصول کیا تھا۔
ان سائنسدانوں نے انسانی جسم میں موجود خلیوں کا آکسیجن لیول میں کمی پر ردعمل جانچنے کے لیے کامیاب تحقیق کی تھی۔