• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

سابق ایجنٹ کی گمشدگی، امریکی عدالت کا ایران کو 1.4 ارب ڈالرز ہرجانہ دینے کا حکم

by sohail
اکتوبر 6, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایک امریکی عدالت نے ایرانی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایرانی جزیرے میں لاپتہ ہو جانے والے سابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ لیونسن کے اہلخانہ کو 1.4 ارب ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرے۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ گمشدہ رابرٹ لیونسن کی فیملی کو ایرانی حکومت 10 کروڑ 7 لاکھ ڈالرز زر تلافی اور ایک ارب 30 کروڑ ڈالرز ہرجانے کے طور پر ادا کرے۔

لیونسن کے اہلخانہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سابق ایف بی ایجنٹ کے لیے انصاف کی تلاش میں پہلا قدم ہے جسے 13 سال سے زیادہ عرصہ پہلے اغوا کر کے ناقابل تصور اذیتوں میں گزارا گیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے قبل ایران نے اپنے افعال کے نتائج کا سامنا نہیں کیا تھا، جج کیلی کا فیصلہ آئندہ ایران کے لیے یرغمال بنانے کے حوالے سے وارننگ ثابت ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم لیونسن کے معاملے پر انصاف کے لیے ہر طرح کا رستہ اور تمام آپشنز استعمال کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

اس قبل سابق ایف بی آئی ایجنٹ کے خاندان نے کہا تھا کہ امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ لیونسن کی موت واقع ہو چکی ہے۔

ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ لیونسن برسوں پہلے ان کے ملک سے چلا گیا تھا۔

سابق ایف بی آئی ایجنٹ مارچ 2007 میں دبئی سے ایرانی جزیرے کش روانہ ہوا تھا جہاں اس کی ملاقات داؤد صلاح الدین سے ہوئی تھی جو امریکہ سے تعلق رکھنے والا جہادی تھا۔

اس پر واشنگٹن میں ایرانی سفارتخانے کے افسر کے قتل کا الزام تھا جس کے بعد وہ امریکہ سے بھاگ کر ایران چلا گیا تھا۔

لیونسن کی گمشدگی کے کئی ماہ بعد امریکی حکومت کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ سی آئی اے کی غیررسمی ملازمت میں تھا۔

اس معاملے کی عبوری تحقیقات کے بعد سی آئی اے کے کئی افسروں کو زبردستی ایجنسی سے نکال دیا گیا تھا جبکہ بعض کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی تھی۔

Tags: امریکی عدالتایرانی حکامایف بی آئی
sohail

sohail

Next Post

آرمینیا سے جنگ میں فتوحات حاصل کرنے میں ترکی نے آذربائیجان کی کیسے مدد کی؟

ترکی سے درآمد اشیاء کا بائیکاٹ کریں، سعودی حکام کی شہریوں سے درخواست

دنیا بھر میں 78 کروڑ افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں، عالمی ادارہ صحت کا انکشاف

مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تجارتی خسارہ 5.80 ارب ڈالر رہا، ادارہ شماریات

کورونا وائرس، خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں اسمبلی پر پابندی عائد، بریک ختم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In