ایک امریکی عدالت نے ایرانی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایرانی جزیرے میں لاپتہ ہو جانے والے سابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ لیونسن کے اہلخانہ کو 1.4 ارب ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ گمشدہ رابرٹ لیونسن کی فیملی کو ایرانی حکومت 10 کروڑ 7 لاکھ ڈالرز زر تلافی اور ایک ارب 30 کروڑ ڈالرز ہرجانے کے طور پر ادا کرے۔
لیونسن کے اہلخانہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سابق ایف بی ایجنٹ کے لیے انصاف کی تلاش میں پہلا قدم ہے جسے 13 سال سے زیادہ عرصہ پہلے اغوا کر کے ناقابل تصور اذیتوں میں گزارا گیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے قبل ایران نے اپنے افعال کے نتائج کا سامنا نہیں کیا تھا، جج کیلی کا فیصلہ آئندہ ایران کے لیے یرغمال بنانے کے حوالے سے وارننگ ثابت ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم لیونسن کے معاملے پر انصاف کے لیے ہر طرح کا رستہ اور تمام آپشنز استعمال کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
اس قبل سابق ایف بی آئی ایجنٹ کے خاندان نے کہا تھا کہ امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ لیونسن کی موت واقع ہو چکی ہے۔
ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ لیونسن برسوں پہلے ان کے ملک سے چلا گیا تھا۔
سابق ایف بی آئی ایجنٹ مارچ 2007 میں دبئی سے ایرانی جزیرے کش روانہ ہوا تھا جہاں اس کی ملاقات داؤد صلاح الدین سے ہوئی تھی جو امریکہ سے تعلق رکھنے والا جہادی تھا۔
اس پر واشنگٹن میں ایرانی سفارتخانے کے افسر کے قتل کا الزام تھا جس کے بعد وہ امریکہ سے بھاگ کر ایران چلا گیا تھا۔
لیونسن کی گمشدگی کے کئی ماہ بعد امریکی حکومت کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ سی آئی اے کی غیررسمی ملازمت میں تھا۔
اس معاملے کی عبوری تحقیقات کے بعد سی آئی اے کے کئی افسروں کو زبردستی ایجنسی سے نکال دیا گیا تھا جبکہ بعض کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی تھی۔