سعودی حکام نے اپنے شہریوں پر ترکی سے درآمد ہونے والی ساری اشیاء کے بائیکاٹ پر زور دیا ہے۔
سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ اجلان الاجلان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ ترکی سے متعلق ہر چیز کا بائیکاٹ کریں، انہوں نے درآمدات، سرمایہ کاری اور سیاحت سے متعلق ہر شعبے کے بائیکاٹ کی درخواست کی۔
انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے گلف پولیس کے متعلق حالیہ بیان پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری قیادت، ملک اور ہمارے شہریوں کے بارے میں ترکی کے عداوت کے بعد ہمیں چاہیے کہ ہم ان کا بائیکاٹ کریں۔
یاد رہے ترک صدر نے کچھ گلف ممالک کی پولیس پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا۔
جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ممالک کل موجود نہیں تھے اور آئندہ بھی ان کا وجود نہیں ہوگا لیکن ہم اللہ کے حکم سے خطے میں اپنا پرچم ہمیشہ لہراتے رہیں گے۔
سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار ہیں جب استنبول کے سعودی قونصل خانے میں واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خشوگی کو قتل کر دیا گیا تھا۔
ترک صدر نے جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار براہ راست سعودی عرب کو قرار دیا تھا، اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ صحافی کے قتل کے احکامات سعودی اعلی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔
رواں ہفتے ترکی کی جانب سے چھے مشتبہ سعودی افراد کی نشاندہی کی گئی تھی جب کہ 21 سعودی شہریوں کے خلاف پہلے سے ہی ترکی کی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔
یاد رہے سعودی عرب کی ایک عدالت نے جمال خشوگی قتل کیس میں فرد جرم عائد کیے گئے 5 ملزمان کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا تھا کہ صحافی کے خاندان کی جانب سے معاف کیے جانے کے بعد انہیں 20 سال قید کی سزا دے دی گئی ہے۔
ترک صدر نے حال ہی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے پر متجدہ عرب امارت اور بحرین کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ان فیصلوں کے جواب میں ترکی گلف ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کر سکتا ہے۔