وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دو بڑی انٹرنیشنل ایئرلائنز نے پاکستانی پائلٹس کو نوکری سے فارغ کر دیا اور ان کی تنخواہیں ادا نہیں کیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے پاکستانی پائلٹس کے جعلی لائسنس کے بارے میں بیان دیا تھا جس کی وجہ سے ان پائلٹس کا مستقل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
پائلٹس کے لائسنسوں کے حوالے سے دیے گئے بیان کی وجہ سے ترکش ایئر لائن نے پائلٹس کی تنخواہیں روک لی ہیں جبکہ جعلی لائسنس کو بنیاد بناتے ہوئے ایمریٹس ایئر لائن نے پاکستانی پائلٹس کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا ہے۔
سینیٹ کمیٹی میں ایوی ایشن حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ چند پائلٹس کے علاوہ باقی پائلٹس کے لائسنسوں کو کلیئر کر دیا گیا ہے مگر ارکان کمیٹی نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اس طرح پائلٹس کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ صرف انہی پائلٹس کا ذکر کیا جاتا جن کے لائسنس کا کوئی مسئلہ تھا۔۔
ایوی ایشن ڈویژن نے پائلٹس کی برطرفی کی وجہ ایئر لائنز میں ”ڈاؤن سائزنگ“ قرار دے دی ہے، ایوی ایشن ڈویژن کی طرف سے کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ مڈل ایسٹ کی بڑی ائیر لائنز نے پاکستانی پائلٹس سمیت دیگر ممالک کے پائلٹس کو بھی نوکریوں سے فارغ کیا۔
ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ سول ایوی ایشن تمام پائلٹس کے لائسنس کلیئر کر چکی ہے۔
ایوی ایشن ڈویژن کی طرف سے اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ ترکش ائیر لائن نے لائسنس کی کلیئرنس کے علاوہ مزید یقین دہانیاں مانگ لی ہیں۔