اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) عوام کے ٹیکس سے بننے اور چلنے والے ہسپتال میں ظلم کا بازار گرم ، غلطی سے مانیٹر ٹوٹنے پر کورونا سے متاثرہ خاتون مریضہ کو جرنامہ، بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں کورونا وارڈ میں مانیٹر نیچے گر کر ٹوٹنے پر ہسپتال انتظامیہ نے سندھی خاتون کو روک لیا جبکہ اس کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ۔ ہسپتال انتظامیہ نے مریضہ پر مانیٹر کی مرمت کیلئے 20ہزار کا جرمانہ عائد کیا جبکہ کمپنی کی جانب سے مانیٹر کی مرمت پر 5لاکھ روپے کا تخمینہ لگا یا گیا ہے ۔ یہ واقعہ سندھ کے رہائشی عطا الرحمٰن کے ساتھ پیش آیا ، انہوںنےبتایا کہ ان کی والدہ کو کورونا کی شکایت پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں لے جایا گیا جہاں گزشتہ روز ان کی طبیعت زیادہ بگڑی اور انہوںنے مدد کیلئے ڈاکٹر کو بلانا چاہا تو غلطی سے مانیٹر کو ہاتھ لگ گیا جس سے وہ نیچے گر گیا اور اس کی سکرین پر اسکریچز آگئے ۔ واقعہ کی اطلاع ایڈیشنل ڈائریکٹر کو دی گئی تو انہوںنے مانیٹر کی مرمت کیلئے 5لاکھ روپوں کا مطالبہ کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایات دیں کہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مریضہ کو ہسپتال چھوڑنے نہ دیا جائے ، بعد میں خاتون کے بیٹے کو بھی اس الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور پھر 20ہزار جرمانے پر اسے چھوڑ دیا گیا ۔ متاثرہ سندھی شہری کا کہنا تھا کہ ان کے پاس سندھ واپس جانے کیلئے بھی پیسے نہیں اور ہسپتال انتظامیہ ان سے پیسے طلب کر رہی ہے ۔ اس حوالے سے ہسپتال ترجمان محمد عاصم کا کہنا تھا کہ خاتون کی غلطی سے مانیٹر ٹوٹا کمپنی اس کی مرمت کیلئے 2سے 5لاکھ روپے طلب کر رہی ہے ۔مذکورہ مریضہ پر 20ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے تاہم انہوںنے ابھی جرمانہ اد انہیں کیا ۔