ایک دانا کا قول ہے کہ میں نے’ سورة عصر‘ کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازار میں آوازیں لگا رہا تھا کہ "رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے۔ رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایا گھلا جا رہا ہے” اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا یہ ہے’’ والعصر ان الانسان لفی خسر ‘‘ کا مطلب۔ کہ بیشک انسان خسارے میں ہے،
عمر کی جو مدت انسانوں کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گزر رہی ہے ۔ اس کو اگر ضائع کیا جائے یا غلط کاموں میں صرف کر ڈالا جائے تو انسان کا خسارہ ہی خسارہ ہے۔