لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اِن ہاؤس تبدیلی کا معاملہ اب نمبر گیمز کے مرحلے میں داخل ہو گیا، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ارکان کے اعداد و شمار پر سیاسی رہنماؤں سے مشورے تیز کر دیئے۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے بھی ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کی، دونوں رہنماؤں میں قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان پر گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق رانا ثناءاللہ نے فیصل آباد، سرگودھا ڈویژن کے ناراض ارکان کے بارے میں شہباز شریف کو بتایا، راولپنڈی ڈویژن اور جنوبی پنجاب کے بھی تحریک انصاف کے ناراض ارکان پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران لیگی صدر کو عدم اعتماد کی صورت میں لاتعلق رہنے والے ارکان کی بھی لسٹ دی گئی، رانا ثناءاللہ نے پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی شہباز شریف کو گارنٹی بھی دی۔ ذرائع کے مطابق لیگی صدر نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں، انہوں نے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ ساجد میر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ ساجد میر نے وزیر اعظم کیخلاف مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 10 بہترین وزارتوں کے وزرا اور مشیروں کے لئے تعریفی اسناد دینے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوٹیر پر اپنے ایک بیان میں شہبازشریف نے کہا کہ حقائق عمران خان کے کھوکھلے لیکچروں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان کا اخلاقیات پر درس اپنی حکومت کی تاریخی کرپشن، ریکارڈ خساروں ، بے روزگاری اور تاریخی نااہلی چھپانے کی کوشش ہے، لیکن وہ کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔