اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کارکردگی میں وزارت خارجہ کو11 واں نمبر دینے پر تشویش کا اظہار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پرفارمنس ایگریمنٹ کی پہلی سہ ماہی میں وزارت خارجہ نے 26 میں سے 22 جبکہ دوسری سہ ماہی میں 24 میں سے 18 اہداف حاصل کیے، ریویو پیریڈ میں کوئی معاملہ زیرالتواء نہ رہنے کو بھی یقینی بنایا گیا، پھر گیارہواں نمبر کیوں؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے معاون خصوصی اسٹبلشمنٹ شہزاد ارباب کو خط ارسال کیا جس میں وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پہلے دس نمبروں میں رکھنے کی بجائے11 واں نمبر دینے پر شدید تشویش ہے۔
پرفارمنس ایگریمنٹ کی پہلی سہ ماہی میں وزارت خارجہ نے 26 میں سے 22 جبکہ دوسری سہ ماہی میں 24 میں سے 18 اہداف حاصل کیے، ریویو پیریڈ میں کوئی معاملہ زیرالتواء نہ رہنے کو بھی یقینی بنایا گیا، اس کے ساتھ وزارت خارجہ نے اعلیٰ سطح کی سرگرمیاں کرنے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
وزارت خارجہ کے کاموں پر کسی تشویش کا بھی کوئی اظہار نہیں کیا گیا جبکہ 30 فیصد کارکردگی جائزہ سے متعلق کوئی تحریری گائیڈ لائنز بھی نہیں دی گئیں، لہذا وزارت خارجہ کی یہ گریڈنگ ریویو کمیٹی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزرا میں کارکردگی کی بنیاد پر سرٹیفکیٹ بانٹنے کے معاملے پر ایم کیوایم پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی طریقہ کار پر اعتراض اٹھا دیا۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں ست گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نہ پاکستان اور نہ ہی بیرون ملک ایسی کوئی مثال دیکھی۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں جہاں وزرا کی کارکردگی جانچنے کیلئے مقابلے کرائے جائیں، ایسے اقدامات سے حکومت کی غیرسنجیدگی کا تاثر سامنے آتا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت کی اس غیرسنجیدگی کا ہم پہلے بھی گلہ کرتے رہے ہیں وزرا کا اہم مقام ہوتا ہے، ان کی عزت واحترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت کوئی کھلونا ہے جو کھیلنے کے لیے دی گئی ہے۔