اسلام آباد (عمران مگھرانہ سے ) 2018 کا بدلہ 2024 میں پورا ہوا۔آج وزیر اعظم کا انتخاب تھا۔قومی اسمبلی کا ایوان سیاسی میدان جنگ بن چکا تھا۔ پی ٹی آ ئی ارکان اسمبلی اور ن لیگی ممبران اسمبلی آ منے سامنے تھے۔ جو کچھ 2018 میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اس وقت کی اپوزیشن نے تماشہ لگایا تھا وہی تماشہ آ ج پی ٹی آئی کے ارکان نے رچایا۔۔
وقت ایک سا نہیں رہتا۔۔ اس وقت اپوزیشن نے عمران خان کو تقریر نہیں کرنے دی تھی تو آ ج کی اپوزیشن نے شہباز شریف کی تقریر کے دوران مسلسل نعرے لگا لگا کر اس وقت کا بدلہ چکتا کر دیا۔۔ ایوان میں دونوں اطراف سے جو سب سے زیادہ نعرہ لگایا گیا وہ چور چور کا نعرہ تھا۔ دونوں سائیڈ پر بیٹھنے والے ایک دوسرے کو چور چور کے لقب سے نواز رہے تھے مگر آ ج پی ٹی آئی نہ ہی ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو ٹارگٹ کیا۔۔ قوی امکان ہے قومی اسمبلی کے ایوان میں موجود پیپلز پارٹی کے ارکان دونوں پارٹیوں کی ایک دوسرے کے خلاف جاری جنگ کو انجوائے کرتے رہے ہوں گے۔
پانامہ کیس میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تھے تو وہ مزے کے ساتھ اپنی تقریر کر کے گئے تھے اسی طرح شہباز شریف جب پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تو اس وقت پی ٹی آئی وزیر اعظم کے الیکشن کا بائیکاٹ کر کے ایوان سے چلی گئی تھی جس کی وجہ سے شہباز شریف کی تقریر کے دوران بھی نہ کوئی شور شرابہ ہوا تھا نہ ہی مخالفت میں نعرے لگائے گئے تھے۔میرے نزدیک تحریک عدم اعتماد کے بعد وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ نہ لینا اور استعفے دے کر میدان چھوڑنا پی ٹی آئی کی بڑی غلطی تھی۔
پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کا میدان چھوڑ دیا تھا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا جہاں نہ الیکشن ہوئے،الٹا پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاق میں انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے گرد گھیرا تنگ کیا۔۔ پی ٹی آئی کو جو شیلٹر ملا ہوا تھا اور جہاں رہ کر اتحادی حکومت کو مشکل سے دوچار کر سکتے تھے وہ سب میدان خالی کر کے الٹا انہیں کے سپرد کر آ ئے۔پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے وقت واک آؤٹ کرنا بھی پی ٹی آئی کا درست فیصلہ نہیں تھا اسمبلی ایوان میں موجود رہ کر مریم نواز کی تقریر کے دوران اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا تھا۔۔
چلیں دیر آ ید درست آ ید۔۔ پی ٹی آئی نے اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور وزیر اعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے اور حل بھی پارلیمنٹ کا حصہ رہ کر ہی نکلے گا۔ ایوانوں کے فیصلے سڑکوں اور میدانوں میں نہیں ہوسکتے۔پی ٹی وی پر اگرچہ پی ٹی آئی کا احتجاج نہیں دکھایا گیا مگر پرائیویٹ میڈیا اور گیلری میں بیٹھے بے شمار میڈیا کے نمائندوں نے ان مناظر کو اپنے موبائلز میں محفوظ کر لیا۔ اب تک کئی لوگ سوشل میڈیا پر اس احتجاج کو اپ لوڈ بھی کر چکے ہوں گے۔پی ٹی آئی کے مطالبات پورے ہوں گے یا نہیں مگر عمران خان اس بات سے ضرور خوش ہو گئے ہوں گے کہ ان کے ارکان نے 2018 کی تقریر کا بدلہ 2024 میں ان کی غیر موجودگی میں لے لیا ہے





