اسلام آباد (سمیرا سلیم سے ) نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 24ویں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
تقریبِ حلف برداری ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نومنتخب وزیراعظم سے عہدے کا حلف لیا۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور دیگر سروسز چیفس، اعلیٰ بیوروکریٹس اور سفرا وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت ہوئے، سبکدوش نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سمیت آصف زرداری، نوازشریف، بلاول، مریم نواز، مراد علی شاہ اور سرفراز بگٹی بھی تقریب میں شریک ہوئے ۔
چین، ملائیشیا،سعودی عرب، امریکا، ترکی اور ایران کی طرف سے شہباز شریف کو مبارکباددی گئی جبکہ حیران کن طور پر پاکستان کے دوست ممالک قطر، یو اے ای سمیت مغربی ممالک کی جانب سے بھی تاحال خاموشی کی اطلاعات ہیں ۔
جہاں پاکستان کی تاریخ میں اب تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی 5 سالہ مدت مکمل نہیں کر سکاوہیں رپورٹس کے مطابق شہباز شریف پاکستان کے واحد سیاسی رہنما ہیں جو مسلسل دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔
’’لیاقت علی خان سے اب تک کے وزرائے اعظم کی تاریخ ‘‘
لیاقت علی خان پاکستان کے 4 برس تک وزیراعظم رہے ،لیاقت علی خان 15 اگست 1947 کووزیراعظم منتخب ہوئے 16 اکتوبر 1951 کو اپنی شہادت تک 4 سال سے کچھ زائد عرصے تک اپنے منصب پر برقرار رہے۔
خواجہ ناظم الدین2 سال سے کم عرصہ تک وزیراعظم رہے،خواجہ ناظم الدین نے وزیراعظم کا عہدہ 17 اکتوبر 1951 کو سنبھالا اور 17 اپریل 1953کو برطرف کر دیا گیا۔
محمد علی بوگرہ 2 سال تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے، 12 اگست 1955 کو قائم مقام گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے پر برطرف کر دیا گیا۔
چوہدری محمد علی ایک سال تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے,12 ستمبر 1956 کو چوہدری محمد علی نے اپنے پارٹی کے اراکین سے اختلافات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیا۔
حسین شہید سہروری بھی ایک سال تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے,17 اکتوبر 1957 کو اسکندر مرزا سے اختلافات کے باعث انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔
ابراہیم اسماعیل چندریگر 2 ما ہ تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے،ابراہیم اسماعیل چندریگر نے چھٹے وزیراعظم کے طور پر 17 اکتوبر 1957 کو اپنا عہدہ سنبھالا، ان کا اقتدار 2 ماہ بعد ختم ہوگیا۔
فیروز خان نون بھی صرف ایک سال سے کم تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے، 7 اکتوبر 1957 کو جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے فیروز خان کو عہدے سے برطرف کیا ۔
نور الامین صرف 3 دن کے لئے وزیراعظم بنے یوں وہ ملکی تاریخ کی کم ترین مدت تک وزیراعظم رہے۔
ذوالفقار علی بھٹو،ذوالفقار علی بھٹو 14 اگست 1973 کو وزیراعظم منتخب ہوئے، 1977 کے عام انتخابات میں وہ ایک بار پھر کامیاب ہوئے ،جنرل ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا،ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں پھانسی دی گئی۔
محمد خان جونیجو 3 سال کے لئے وزیراعظم منتخب ہوئے،محمد خان جونیجو 23 مارچ 1985 فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ محمد خان کی حکومت کو 29 مئی 1988 کو برطرف کیا گیا۔
بے نظیر بھٹو2 سال تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہیں،بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر 1988 میں منتخب ہوئیں، 6 اگست 1990 کوصدر غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت کو برطرف کیا۔
نواز شریف 3 سال سے کم عرصہ تک وزیر اعظم رہے۔نواز شریف 1990 میں پہلی بار وزیراعظم منتخب ہوئے ،ان کی حکومت کو بھی صدر غلام اسحاق خان نے 1993 میں برطرف کر دیا۔
بے نظیر بھٹو دوسری بار 1993 میں وزیراعظم منتخب ہوئیں اور 3 سال بعد 1996 میں برطرف کر دی گئیں۔
نواز شریف 1997 میں دوسری بار وزیراعظم بنے مگر 2 سال بعد ہی 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نواز شریف کو عہدے سے ہٹا دیا۔
میر ظفر اللہ خان جمالی,19 مہینے تک وزیراعظم رہے،ظفر اللہ خان جمالی کو 19 ماہ بعد ہی پرویز مشرف نے عہدے سے ہٹا دیا۔
چوہدری شجاعت حسین2 ماہ تک وزیراعظم رہے،چوہدری شجاعت حسین 30 جون 2004 کو وزیراعظم بنے ۔
شوکت عزیز3 سال ملک کے وزیراعظم رہے،شوکت عزیز 28 اگست 2004 کو وزیراعظم منتخب ہوئے، پارلیمان کی مدت پوری ہونے کے بعد 15 نومبر 2007 کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
یوسف رضا گیلانی4 سال تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے،یوسف رضا گیلانی 2008 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد پاکستان کے 18 ویں وزیراعظم بنے۔2012میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں سزا کے بعد اپنے عہدے سے فارغ ہوئے، 24 مارچ 2013 کو حکومت کی مدت پوری ہونے تک اس عہدے پر کام کرتے رہے ۔
نواز شریف جون 2013 میں تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم بنے،نواز شریف 4 سال 53 دن تک اپنے عہدے پر برقرار رہے.28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے پر وہ عہدے سے محروم ہوئے۔
شاہد خاقان عباسی 1 سال سے کم عرصہ تک وزیراعظم رہے،شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے بعد اگست 2017 میں 21 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے،قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر 31 مئی 2018 کو شاہد خاقان عباسی کی حکومت ختم ہوئی۔
عمران خان 3 سال سے زائدعرصہ تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے،عمران خان 18 اگست 2018 کو22ویں وزیراعظم منتخب ہوئےعمران خان کا اقتدار 10 اپریل 2022 کو ختم ہوا۔
شہباز شریف 11 اپریل 2022 کو پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے،شہبازشریف 16 مہینے تک وزیراعظم کے منصب تک فائز رہے اور اب ایک بار پھر شہباز شریف آج وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں ۔





