اسلام آباد (سمیرا سلیم سے ) وسطی بحیرہ روم میں تارکیں وطن کی کشتی کو حادثہ، ساٹھ لوگ مارے گئے۔ ایک سال میں اب تک تین ہزار لوگ یورپ داخل ہونے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر جان گنوا چکے ۔تفصیلات کے مطابق بحیرہ روم میں تارکین وطن کے ساتھ افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں 60 افراد جان سے چلے گئے۔ مہاجرین کی کشتی لیبیا سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں بجلی سے محروم ہو گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق کشتی کے انجن میں خرابی پیدا ہو گئی جس سے کشتی حادثہ کا شکار ہو گئی اور متعدد قیمتی جانیں لقمہ اجل بن گئیں۔مرنے والے افراد ڈوب کر مرے یا بھوک اور پیاس سے وجوہات تا حال واضح نہیں ہو سکیں۔حادثہ میں جاں بحق افراد کا تعلق کن ممالک سے ہے یہ بھی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا۔
ایس او ایس میڈٹرینی کے مطابق کشتی حادثہ میں ہلاک ہونے والے60 افراد میں خواتین اور کم از کم ایک بچہ بھی شامل ہے۔ریسکیو گروپ کا اوشین وائکنگ ریسکیو جہاز اس وقت بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا ہے اور مختلف کشتیوں کی مدد سے 224 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ امدادی گروپ کے مطابق زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ وہ 8 مارچ کو لیبیا کے علاقے زاویہ سے روانہ ہوئے تھے۔ایس او ایس میڈیٹرینی کے مطابق کشتی میں سوار مسافروں نے کئی دنوں تک بغیر خوراک اور پانی کے سمندر میں سفر کیا۔ اس کے علاؤہ اوشین وائکنگ نے بدھ کی رات 113 افراد کو ریسکیو کیا جبکہ جمعرات کو مزید 88 افراد کو "اوور لوڈڈ انفلیٹ ایبل کشتی سے بچایا گیا ہے۔ایس او ایس میڈیٹرینی کا کہنا ہے کہ ریسکیو کئے جانے والے افراد کو اٹلی کے مشرقی ساحل پر واقع انکونا کی طرف بھیج دیا گیا ہے۔
اٹلی کا یہ مشرقی ساحلی علاقہ حادثہ کی جگہ سے 14 سو 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ امداد گروپ کا کہنا ہے کہ اطالوی حکام کو اس بارے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ قریب ترین جگہ پر پہنچ جائیں۔ایس او ایس کے مطابق انھوں نے 2016 سے اب تک بحیرہ روم میں 39ہزار سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے جن میں زیادہ تر افراد کو وسطی بحیرہ روم جو دنیا کا سب سے خطرناک تارکین وطن کا راستہ ہے پر بچایا گیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا وسطی بحیرہ روم بحری جہاز کے گرنے کی خبر پر افسردگی کا اظہار کیا ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 3 ہزار 105 تارکین وطن بحیرہ روم عبور کر کے یورپ جانے کی کوشش میں ہلاک ہوئے۔ رواں برس اب تک تارکین وطن کے بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش میں 278 افراد جان کی بازی ہا چکے ہیں۔رواں برس کل19ہزار 562افراد اس راستے کے ذریعہ اٹلی پہنچے ہیں




