• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ، کسی نے نہیں کہا پیچھے ہٹ جائیں، صرف اِن کیمرا بریفنگ کا کہا گیا، وزیر اطلاعات تارڑنے جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات کو مسترد کردیا

by ویب ڈیسک
مئی 14, 2024
in پاکستان, تازہ ترین
0
یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ، کسی نے نہیں کہا پیچھے ہٹ جائیں، صرف اِن کیمرا بریفنگ کا کہا گیا، وزیر اطلاعات تارڑنے جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات کو مسترد کردیا
0
SHARES
126
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے قانون و ضوابط کے حوالے سے ٹی وی، اخبار اور ریڈیو میں کافی زیادہ چرچا تھا، ایک سلسلے میں ایک اتھارٹی بنائی گئی جس کے بعد سی ایل سی سی میں بھی معاملہ آیا، وزارت اطلاعات و نشریات نے کافی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ڈرافٹ بھیجا تھا جو آج منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس ڈرافٹ میں ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے اتھارٹی کے قیام کی تجویز پیش کی گئی اور رہنما اصول بھی متعین کیے گئے ہیں جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے عین مطابق ہیں، اس کے باوجود وزیراعظم کی رائے تھی جس کی کابینہ اراکین نے بھی تائید کی کہ قانون سازی میں سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے تو انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں ہماری اتحادی جماعتوں کی نمائندگی ہو گی اور وہ اس کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان گفتگو کر کے گئے ہیں، انہوں نے ایک خط کے بارے میں گفتگو کی، کچھ وضاحتیں دیں اور اپنی رائے بھی دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معزز جج نے خط لکھا ہے کہ جس کے مندرجات سے یہ تاثر دیا گیا کہ انٹیلی جنس اور دفاعی ادارے ججز کے کام میں کسی قسم کی مداخلت کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ میرے لیے تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ اس چیز کی اس طرح سے تشہیر کی گئی کہ جیسے عدلیہ میں مداخلت ہے، اس سے پہلے بھی چھ جج صاحبان کا ایک خط آیا اور ان کے خط پر حکومت نے فوری طور پر چیف جسٹس اور فل کورٹ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ اس لیے بنایا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو، اس معاملے کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور اب یہ معاملہ زیر سماعت ہے تو میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی ملک کو آگے لے کر جاتی ہے لیکن ہمیں دہشت گرد، امن و امان، معاشی اور سیکیورٹی سمیت جس قسم کے چیلنجز اور ماحول کا سامنا ہے ایسی صورت میں تمام اداروں کو ایک دوسرے کو تھوڑی جگہ دینی چاہیے، سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔
اس موقع پر وزیر اطلاعات اعظم عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کیمرا بریفنگ کی جائے تو اس پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک خط لکھ دیا جاتا ہے کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں، یہ حقیقت پر مبنی بات نہیں ہے، اگر ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی تھی اور میں واضح کردوں کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اتنا آگے لے کر مت جائیے، بات قومی سلامتی کی ہے اور اس ایک معاملے کو لے کر قومی سلامتی لے کر سوال اٹھانا مناسب نہیں، میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ زیریں عدالتوں کے ججوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ ان پر سخت زبان میں باقاعدہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ فلاں کیس میں فلاں فیصلہ کرو۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو خطوط کے ذریعے اجاگر نہیں کرنا چاہیے، کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو چیف جسٹس فل کورٹ بلا سکتے ہیں، جس چیف جسٹس سے روزانہ ملاقات ہوتی ہو اس کو خط لکھنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر اس مسئلے کو لے کر قومی سلامتی پر سوال اٹھایا جائے گا تو یہ مناسب نہیں ہو گا، کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، تو میں سمجھتا ہوں کہ تناؤ کو کم کرنا ہو گا اور تمام اداروں کو اس پر مل جل کر کام کرنا ہو گا۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
سانحہ 9 مئی: کابینہ کا خصوصی اجلاس جمعرات کو طلب، وزیراعظم خصوصی پیغام دینگے

منصوبہ بندی کب ، کہاں اور کیسے ہوئی ، 9 مئی پر سرکاری رپورٹ میں عمران اور دیگر کیخلاف شواہد پیش نہ کیے جانے کا انکشاف ، جیو نیوز کی رپورٹ 

بجلی ، گیس کی قیمتیں ، پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف سے کیا وعدہ کیا ہے ؟ اندرونی تفصیلات

پاکستان نے آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرادی

ہتک عزت کے نئے قانون پر سب متفق، الزام ثابت ہونے پر 3 ملین ہرجانہ ہوگا، پہلا کیس خود لائوں گی، عظمیٰ بخاری

ہتک عزت کے نئے قانون پر سب متفق، الزام ثابت ہونے پر 3 ملین ہرجانہ ہوگا، پہلا کیس خود لائوں گی، عظمیٰ بخاری

توڑ پھوڑ کیس ،عمران خان بری

عمران خان کی ضمانت منظور ، رہا کرنے کا حکم

مسلسل تیسری بار جیت کا امکان ، انتخابات سے قبل کون کونسی اہم اور ارب پتی شخصیات نریندرمودی کی جماعت میں شامل ؟

نہ زمین جائیداد نہ ارب ، کھرب ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے اثاثے ظاہر کردیے، کل مالیت محض 3.02کروڑ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In