اسلام آباد (رافعہ زاہد سے ) جیو کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ فون ٹیپنگ کے معاملے میں عمران خان بھی تو یہی کہتے تھے کہ ایسا ہونا چاہئے پھر آج کیسے پی ٹی آئی والے اس کو غلط کہہ رہے ہیں،میری نظر میں تو بہتر یہ ہے کہ یہ سب کچھ لیگل کور میں ہو اور جو کرے پھر وہ اس کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔
مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ فون ٹیپنگ کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں یہی لکھا گیا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کی تحفظ کے لئے کوئی بھی ادارہ جو ہے وہ گفتگو کو سن سکتا ہے ،عمران خان بھی تو یہی کہتے تھے کہ ایسا ہونا چاہئے پھر آج کیسے پی ٹی آئی والے اس کو غلط کہہ رہے ہیں ۔
اس بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بجائے اس کہ کہ یہ چیزیں جو ہیں اگر بلااجازت ہورہی تھیں اور پھر پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس نے یہ ٹیپ کیا جو لیک ہوگئی ہے لیکن اب اگر کوئی اس کی ٹیپ کی ذمہ داری لیتا ہے تو وہ واضح بھی کرے گا کہ اس آڈیوکو ٹیپ کرنے کا اس کا مقصد یہ تھا پھر عدالت کا کام ہے اس مقصد کو دیکھنا ۔میری نظر میں تو بہتر یہ ہے کہ یہ سب کچھ لیگل کور میں ہو اور جو کرے پھر وہ اس کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔ اگر ریاست کو کسی پر شک ہوتا ہے کہ وہ ایسے کسی جرم کا مرتکب ہورہاہے جس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہوسکتا ہے تو وہ اپنا اختیار استعمال کرسکتا ہے ۔





