اسلام آباد (نیوزڈ یسک ) وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری کا کہنا ہے توانائی سیکٹرکے قرضوں کا بوجھ بجلی صارفین سے لیا جا رہا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا بجلی کی پیداواری قیمت 8 سے 10 روپے فی یونٹ ہے جبکہ بجلی کے ترسیلی نظام کے چارجز فی یونٹ ڈیڑھ سے 2 روپے ہیں، ڈسکوز کے اخراجات فی یونٹ 5 روپے پڑتے ہیں۔
اویس لغاری کا کہنا تھا سب سے بڑا خرچہ 18 روپے فی یونٹ کیپیسٹی چارجز کا ہے، اگر ان پلانٹس کو چلائیں گے تو وہ آپ کو تیل کا خرچہ لگا کر آپ سے پیسے لیں گے، اگر پلانٹس کو نہیں چلائیں گے تو بھی وہ ان پلانٹس کی مد میں اپنا سرمایہ لگانے اور منافع کے پیسے آپ سے لیں گے۔
وفاقی وزیر برائے توانائی کا کہنا تھا ساہیوال کول پلانٹ کے 2015 میں کیپیسٹی چارجز 3 روپے فی یونٹ تھے، ڈالرکی قیمت بڑھنے اور شرح سود 22 فیصد تک آنے کی وجہ سے کیپیسٹی چارجز بڑھ گئے، ڈالر کی قیمت اور شرح سود بڑھنے سے ساہیوال کول پلانٹ کے کیپیسٹی چارجز 11.45 روپے فی یونٹ ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت توانائی سیکٹرکے قرضوں کا بوجھ بجلی صارفین سے لیا جا رہا ہے، بجلی کے ریٹ بڑھنے سے بجلی کے استعمال میں کمی آئی ہے، 35 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے اس میں ٹیکسز شامل نہیں ہیں۔
وزیر توانائی نے کہا کہ جنوری میں بجلی کی قیمت میں 3 سے 5 فیصد کمی آنا شروع ہو جائے گی، بند پلانٹس پر ساڑھے 7 ارب روپےکی تنخواہیں دی جا رہی ہیں، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا سالانہ خسارہ 550 سے 600 ارب روپے ہے، اگلے دو سال سے تین سال میں ٹرائبل ایریا اور بلوچستان کے علاوہ دیگر تمام ڈسکوز کو نجی سیکٹر کو دیں گے،
اویس لغاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر سال مہنگائی اور شرح سود کی وجہ سے بجلی کے ریٹ میں ردوبدل ہوتی ہے، پچھلے ہفتے بجلی کی قیمت میں 7 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا، 2019 کے بعد حکومت نے بجلی کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھنے نہیں دی، ماضی کی حکومت نے اپنے سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی، بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافہ تین سے چار سال بعد ہوا ہے، بجلی کی فی یونٹ قیمت ہر سال آہستہ آہستہ بڑھنی چاہیے تھی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ بجلی صارفین سے حکومت 7 مختلف قسم کے ٹیکسز کی مد میں رقم وصول کر رہی ہے۔




