• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 25, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

آخری وار باجوہ کا تھا ، عمران خان کا ماضی تو ہے مگر کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا، سینیٹر عرفان صدیقی

by ویب ڈیسک
اگست 27, 2024
in پاکستان, تازہ ترین
0
آخری وار باجوہ کا تھا ، عمران خان کا ماضی تو ہے مگر کوئی سیاسی  مستقبل نظر نہیں آتا، سینیٹر عرفان صدیقی
0
SHARES
288
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان کا ماضی تو ہے سیاسی حوالے سے کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔مسلم لیگ (ن) کا اطمینان تب ہوتا جب نوازشریف کو اقتدار سے نکالنے کے منصوبے اور اس میں ملوث کرداروں کا صندوق بھی کھولا جاتا جو ابھی تک بند ہے، شاید فیض حمید سے تحقیق کے نتیجے میں کوئی لیڈ اس صندوق تک بھی چلی جائے۔ ’پارٹ آف دی پرابلم‘ اسٹیبلشمنٹ جاچکی ہے، اب اسٹیبلشمنٹ ’پارٹ آف سلوشن ‘ ہے۔ جو کانٹوں کی فصل بو کر گئے تھے، وہ اب جاچکے ہیں، آج اسٹیبلشمنٹ اس فصل کو تلف کرنے میں کردار ادا کررہی ہے تو وہ پارٹ آف دی سلوشن ہی کہلائے گی۔9 مئی کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہونا چاہیے۔
ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ سے معاملات ٹھیک چل رہے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ہم اسٹیبلشمنٹ کو کسی غیرمعمولی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پارٹ آف پرابلم ہے یا پارٹ آف سلوشن کے سوال پر انہوں نے کہاکہ پارٹ آف پرابلم تو تھی۔ آج کانٹوں کی یہ فصل جو میں ،آپ اور پوری قوم کاٹ رہی ہے، ایک فرد نے تو کاشت نہیں کی،‘ اسٹیبلشمنٹ نے اس کے لیے بڑی محنت مشقت کی، پانی دیا ، کھاد ڈالی اور پوری نگہداشت کی۔ اس فصل کو تلف کرنے اور حالات معمول پر لانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ آج کوئی کردار ادا کررہی ہے تو مسئلے کا حل ہی ہوئی۔ یہ فصل بونے والے چلے گئے اب کاٹنے والے آگئے ہیں ۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ نوازشریف پر اتنے مقدمات بنائے گئے لیکن ایک کیس برائے نام کرپشن کا بھی نہیں بنایاجاسکا۔ ناحق سزا بھی دی تو آمدن سے زائد اثاثوں کے بے سروپا الزام پر۔28 جولائی کو حکومت ختم ہونے کے بعد نوازشریف کتنے لاکھ کا جلوس لے کرراولپنڈی سے نکلےلیکن کسی نے ایک کنکر جی ایچ کیوں کی طرف نہ پھینکا۔ میں پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت ماننے کو تیار نہیں۔ جولوگ 9مئی کرسکتے ہیں 200 سے زائد فوجی تنصیبات پر حملے کرسکتے ہیں، وہ کچھ بھی ہوسکتے ہیں لیکن سیاسی جماعت نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو قتل ہوگئے، بے نظیر بھٹو قتل ہوگئیں ، نوازشریف جلاوطن ہوگئے ، اُن پر طیارہ اغواء کے الزامات لگائے گئے۔ لیکن ان میں سے کسی نے سوچا بھی نہیں کہ وہ فوجی تنصیبات اور جی ایچ کیو پر حملہ آور ہوجائیں۔ ان لوگوں کو الہام ہوا تھا کہ کسی بازار چوک میں نہیں جانا بلکہ سینکڑوں میل دور جاکر چکدرہ میں چھاؤنی، مردان، پشاور، کوئٹہ، قلعہ بالا حصار پر ہی جانا ہے، آئی ایس آئی دفتر پرہی حملہ کرنا ہے، میانوالی ائیر بیس میں ہی جاکر کارروائی کرنی ہے۔ یہ شواہد ساری دنیا نے دیکھے ہیں۔ فیض حمید پسند کریں گے تو بتائیں گے کہ کون اس منصوبے کی پشت پر تھا، باگیں کس کے ہاتھ میں تھیں۔ یہ پورا نیٹ ورک کھلنا چاہیے۔ یہ عسکری مہم جو کی سوچ ہے جس نے 200 سے زائد فوجی مقامات پر حملے کرائے تاکہ فوج میں ارتعاش پھیلے اور ایک شخص کا تختہ الٹ دیا جائے۔
9 مئی کے باوجود انتخابات میں پی ٹی آئی کے زیادہ ووٹ لینے کے سوال پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ یہ معاملہ ووٹ کم یا زیادہ لینے کا نہیں۔ زیادہ ووٹ لینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوجاتا کہ آپ کسی جرم پر سزا سے مبریٰ قرار پاگئے ہیں۔ منتخب رُکن ہونے کا مطلب قانون سے بری ہونا نہیں۔ جرم اور ووٹ کاآپس میں کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنرل اکبر سازش سے لے کر آج تک کوئی سازش روبہ عمل نہ ہوئی، ان سازشوں میں ملوث افراد میں کسی کو باہر بھی نہ نکلنے دیا گیا۔ 9 مئی پہلی سازش ہے جو روبہ عمل ہوئی ہے۔ باہر آئی ۔
ایک اور سوال پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو نکالنے والے صندوق کا ابھی تک تالا لگا ہوا ہے۔ ہمیں اطمینان تب ہوتا جب یہ صندوق بھی کھولا جاتا۔ بچے بچے کو پتہ ہے کہ اُس وقت کیا ہوا تھا؟ ٹاپ سٹی اور وردی اترنے کے بعد جو کچھ فیض حمید نے کیا، وہ ہم نے نہیں کھولا ۔ لیکن ایک نہ ایک دِن نوازشریف کے حوالے سے صندوق بھی ضرورکھلے گا۔ لیکن فی الحال ہم فیض حمید کے موجودہ معاملے پر ہی فوکس رہنا چاہتے ہیں۔ اتنا پھیلاؤ نہیں چاہتے کہ اصل مجرم اور جرم ہی ہجوم کے خلاف ایف آئی آر کے مترادف کہیں گم ہوجائے۔
جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کے کردار کے حوالے سے سوال پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ قمر جاوید باجوہ وہ آخری کردار ضرور ہیں ۔ آخری کلہاڑا باجوہ نے چلایا۔ورنہ یہ کہانی تو لندن سے چلتی ہے جس میں پاشا، ظہیرالاسلام، عاصم باجوہ،آصف غفوربھی آتے ہیں۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے مسلط ہونا چاہتی ہے: رانا ثنااللہ

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 3سال توسیع کا معاملہ ، رانا ثنا اللہ نے بڑا انکشاف کر دیا

بھاری بھرکم بجلی بلوں اور ٹیکسوں کیخلاف تاجروں کی ہڑتال، کراچی سے خیبر تک کاروباری مراکز بند

بھاری بھرکم بجلی بلوں اور ٹیکسوں کیخلاف تاجروں کی ہڑتال، کراچی سے خیبر تک کاروباری مراکز بند

نوازشریف آج رات کس ملک روانہ ہو رہے ہیں ؟ بڑا دعویٰ

نواز شریف کی لندن روانگی کی خبریں ، حقائق سامنے آگئے

سولر سسٹم پر منتقل ہونیوالے صارفین کیلئے مجموعی میٹرنگ متعارف کرائے جانے کا امکان

وہ سولرمصنوعات جو صارفین اورمعیشت کیلئےزہرقاتل ہیں: چیئرمین پی اے سی کا اہم بیان

بنگلادیش کی عبوری حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی ہٹادی

بنگلادیش کی عبوری حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی ہٹادی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In