اسلام آباد (عمران مگھرانہ)بلوچستان سے بچے کے اغوا ، لیوی اور پولیس انضمام کے معاملہ پر اعلیٰ افسران جوابدہی کے لیے سینیٹ داخلہ کمیٹی میں پیش نہ ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ داخلہ کمیٹی نے نوٹس میں ہوم سیکرٹری بلوچستان،چیف سیکرٹری بلوچستان،آئی جی بلوچستان، ڈی جی لیویز بلوچستان کو کمیٹی اجلاس کے لیے طلب کیا ہوا تھا۔
اعلیٰ افسران کے کمیٹی اجلاس میں نہ آنے پر سینیٹر عمر فاروق برس پڑے۔ ان کا کہنا تھا لگتا ہے بلوچستا ن ٹھیکے پر دیا ہوا ہے۔چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان کا کہنا تھا وہ پلان کر کے کمیٹی میں نہیں آئے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے بتایا انہیںکہا گیا ہے ہمیں زوم پر لے لیں۔سینیٹر عمر فاروق نے کہاآئی جی بلوچستان سے پوچھ لیں وہ کسی آپریشن میں مصروف ہیں؟ وہ چیف منسٹر کے ملازم ہوں گے ہم نہیں ہیں۔سینیٹر ثمینہ زہری نے سوال کیا کہ کمیٹی میں نہ آنے کی اصل وجہ کیا بتائی ہے؟ سینیٹر عمر فاروق نے کہا جلد سے جلد بلائیں۔ وہ آ کریہ بتائیں بچے کے ساتھ کیا کیا ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بچے کی اغوا کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جو بچہ اغوا ہوا ہے اس فیملی نے 2 ارب روپے کی جائیداد فروخت کی تھی۔مخصوص جگہ سے میسج آنا شروع ہو گئے تھے۔مجھے تو سب پہچان سکتے ہیں میرے بچوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔وین سے صرف ایک مخصوص بچے کو اٹھایا گیا ہے۔یہ ایسی بات ہے جس کو ہضم نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح کے حالات کی وجہ سے 1971 کا نتیجہ نکلا تھا۔چیزیں پک رہی ہیںپکنے کا انجام ہو گا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا بچے کے اغوا والا معاملہ بڑا سنجیدہ ہے۔ایک میٹنگ بلوچستان کے معاملے پر رکھ لیتے ہیں۔سینیٹر پلوشہ خان نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ایک میٹنگ بلوچستان میں رکھ لیں۔سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا اب ایسے لگ رہا ہے بلوچستان میں ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔بچے کے اغوا کا اتنا سنجیدہ مسئلہ ہے ، چیف سیکرٹری کی بے حسی دیکھیں، وہ زوم پر آنا چاہتے ہیں۔وہاں روڈ بند ہے وہ اہم مسئلہ ہے یا بچے کا مسئلہ اہم ہے۔میں بغیر سکیورٹی کے اپنے گھر سے نہیں نکل سکتی۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا ساری کمیٹی ناراض ہے وہ کب آسکتے ہیں؟ سینیٹرعمر فاروق نے کہا آپ ان کے خلاف منٹس لکھ دیں، ہم سائن کر لیتے ہیں، باقی ہمارا کام ہے۔وہاں ان کا کیا کام ہے، کام کوئی اور کر رہا ہے۔





