ابوظہبی کے مغربی علاقے المرفا کے ایک اماراتی جوڑے نے جمعے کے روز دارالحکومت کا تین گھنٹے سے زائد کا سفر طے کر کے ایک سماجی مہم میں شرکت کی یہ سفر اس شوہر کی صحت یابی کی غیر معمولی کہانی کی وجہ سے اور بھی خاص بن گیا۔
سات سال قبل خلیل الحسنی کو فالج کا شدید دورہ پڑا جس نے انہیں سر سے پاؤں تک مفلوج کر دیا۔ ڈاکٹروں نے اس سابق فوجی اور آٹھ بچوں کے والد کو مایوس کن خبر دی کہ ان کا علاج ممکن نہیں۔ اگلے پانچ سال وہ بستر سے جُڑے رہے۔
پھر ان کی اہلیہ فاطمہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہمت نہیں ہاریں گی۔ انہوں نے کہا: ہسپتال میں علاج بہت وقت لے رہا تھا، اس لیے میں نے انہیں گھر لے آئی۔ میں نے انہیں المرفا کے ساحل پر لے جانا شروع کیا۔ میں نے انہیں ریت میں گھنٹوں کے لیے دفن کر دیا اور ریت اور سمندر کے پانی سے ان کے پٹھوں کی مالش کی۔ پھر میں انہیں سمندر میں صاف کرتی۔ دن بہ دن، مہینوں تک یہ عمل جاری رکھا۔”
صرف چار سے پانچ مہینے کے اس غیر روایتی علاج کے بعد خلیل کھڑا ہونے لگے۔ فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا: "مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی کہ وہ دوبارہ چلنے، دوڑنے اور بچوں کی طرح کھیلنے لگے۔” آج ساٹھ سالہ خلیل بغیر سہارے کے چلتے ہیں، البتہ طویل سفر کے لیے وہ گاڑی میں وہیل چیئر ساتھ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک بڑی خواہش بھی دوبارہ حاصل کر لی ہے ( رضاکارانہ خدمت )جس سے وہ پچھلے 22 برسوں سے وابستہ ہیں۔
یہ جوڑا ‘والنٹیئر امارات بیک ٹو اسکول’ مہم کا حصہ بنا، جسے دبئی کیئرز نے الدار کے اشتراک سے منعقد کیا۔ اس موقع پر وہ 450 رضاکاروں میں شامل تھے جنہوں نے کم آمدنی والے بچوں کے لیے اسکول کٹس تیار کیں۔
فاطمہ کے لیے یہ کام ذاتی طور پر بہت اہم تھا۔ انہوں نے کہا: "مجھے یاد آیا جب میں اپنے بچوں کے اسکول بیگ تیار کیا کرتی تھی۔ ان کے لیے سینڈوچ اور جوس رکھتی، کپڑے پہناتی، بیٹیوں کے بال بناتی اور انہیں بس پر بھیجتی۔ آج مجھے وہی خوشی ملی کہ میں دوسرے بچوں کو اسکول جانے میں مدد کر رہی ہوں۔ فاطمہ نے کبھی اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن اپنے بچوں کے ساتھ گھر پر ہی پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔
شوہر کا دوبارہ چلنا پھرنا اس جوڑے کیلئے ایک معجزہ تھا اور اب وہ اس معجزے کے ہوجانے کے بعد دوبارہ رضاکارانہ سرگرمیوں میں جُٹ چکے ہیں ۔ خلیل کا کہنا ہے کہ ہم ہر روز خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کھڑے ہو سکتے ہیں، چل سکتے ہیں، تو آپ دے بھی سکتے ہیں۔ اور جب آپ دیتے ہیں، تبھی آپ زندہ ہیں۔





