دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز چیف انفارمیشن کمیشن (CIC) کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا تھا کہ دہلی یونیورسٹی وزیرِاعظم نریندر مودی کی ڈگری کی تفصیلات حقِ معلومات (RTI) درخواست کے جواب میں ظاہر کرے۔
جسٹس سچن دتہ کے حکم کے مطابق تعلیمی ریکارڈ یا ڈگری ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
یہ قانونی لڑائی تقریباً ایک دہائی سے جاری ہے جس کا تعلق وزیرِاعظم مودی کے تعلیمی ریکارڈ کے انکشاف سے ہے ۔دراصل ان تمام طلبہ کے ریکارڈ سے جنہوں نے 1978 میں دہلی یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا، وہی سال جس میں مودی نے اپنے انتخابی حلف نامے کے مطابق گریجویشن مکمل کیا تھا۔
یہ تنازع 2016 میں ایک RTI درخواست سے شروع ہوا۔ یونیورسٹی نے اسے مسترد کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ تیسرے فریق کی معلومات شیئر کرنے کے خلاف قواعد ہیں۔ تاہم دسمبر 2016 میں سی آئی سی نے یونیورسٹی کو ریکارڈ معائنہ کرنے کی اجازت دینے کا حکم دیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کانگریس لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے انکشاف کیا کہ گجرات یونیورسٹی نے بتایا کہ نریندر مودی نے سنہ 1983 میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ لیکن مودی نے ماسٹرز میں داخلے کے وقت گریجویشن سرٹیفیکیٹ کس یونیورسٹی کا دیا، یہ نہیں بتایا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن میں دیے جانے والے حلف نامے کے دستاویزات کے مطابق نریندر مودی نے 1967 میں میٹرک پاس کیا، سنہ 1978 میں دہلی یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا اور 1983 میں گجرات سے ماسٹرز۔ لیکن آج تک کسی نے ان کا گریجویٹ سرٹیفیکیٹ نہیں دیکھا اور اس معاملے میں گجرات یونیورسٹی بھی خاموش ہے۔‘
الیکشن کمیشن کی دستاویز کے مطابق نریندر مودی کی پیدائش 17 ستمبر 1950 میں ہوئی تھی۔ لیکن جہاں سے مودی نے سکول کی تعلیم حاصل کی، گجرات کے اس ويس نگر کے ایم این سکول کے دستاویز کے مطابق مودی کی تاريخ پیدائش 29 اگست 1949 ہے۔ان دونوں میں سے مودی کی پیدائش کی کون سی تاريخ صحیح ہے، یہ معلومات نریندر مودی کو ہی دینی چاہئیں ۔‘
سی آئی سی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی عوامی شخصیت، خاص طور پر وزیرِاعظم کی تعلیمی قابلیت شفاف ہونی چاہیے اور یہ ریکارڈ عوامی دستاویز تصور ہوگا۔
یونیورسٹی نے اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اس کی نمائندگی ہند کے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا اور ان کی قانونی ٹیم نے کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہزاروں طلبہ کی پرائیویسی کے حق کو عوام کے جاننے کے حق پر ترجیح حاصل ہے۔
مہتا نے یہ بھی دلیل دی کہ اگر یہ ڈیٹا جاری کیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا جس سے عوامی اداروں کے کام میں رکاوٹ آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی ریکارڈ عدالت کو دکھانے کے لیے تیار ہے مگر اسے عوامی نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ کچھ افراد ’’شہرت حاصل کرنے یا سیاسی مقاصد‘‘ کے لیے اس ریکارڈ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب، کارکنان کا مؤقف ہے کہ RTI قانون درخواست گزار کی شناخت یا نیت کو اہمیت نہیں دیتا۔ ڈگری ایک ایسا تعلیمی سرٹیفکیٹ ہے جو ریاست دیتی ہے اور یہ کوئی نجی معاملہ نہیں۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم کی تعلیمی قابلیت عوامی دلچسپی کا ایک اہم مسئلہ ہے۔
عدالت نے اس کیس پر اپنا فیصلہ 27 فروری کو محفوظ کیا تھا۔




