امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایچ ون بی (H-1B) ویزے کے حوالے سے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں ۔جمعہ کو دستخط شدہ صدارتی حکم نامے کے مطابق ایچ ون بی ورکر ویزے کی قیمت ایک لاکھ ڈالر مقرر کر دی گئی ہے، ان ویزوں کی سرپرستی کرنے والی کمپنیوں کو اب سالانہ 1لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کو کہا کہ وہ کمپنیوں سے ایچ-1بی ویزوں کے لیے ہر سال ایک لاکھ ڈالر فیس وصول کرے گی، جس سے ٹیکنالوجی سیکٹر کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے جو بڑی حد تک بھارت اور چین سے آنے والے ماہر کارکنوں پر انحصار کرتا ہے۔
جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، ٹرمپ نے امیگریشن پر کڑی کارروائیاں شروع کی ہیں، جن میں قانونی امیگریشن کی کچھ اقسام کو محدود کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ایچ-1بی ویزہ پروگرام کو دوبارہ ترتیب دینا ان کی انتظامیہ کی طرف سے عارضی ملازمت کے ویزوں کو بدلنے کی سب سے نمایاں کوشش ہے۔
امریکی کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹ نِک کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی کو تربیت دینا چاہتے ہیں تو ہمارے ملک کی عظیم یونیورسٹیوں سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے کسی امریکی کو تربیت دیں۔ امریکیوں کو تربیت دیں۔ بیرون ملک سے لوگوں کو نہ لائیں تاکہ وہ ہماری نوکریاں لے جائیں۔
ٹیک انڈسٹری کے ساتھ ٹرمپ کی یہ کشمکش ایک بڑا تنازعہ بن گئی ہے، حالانکہ اس انڈسٹری نے ان کی صدارتی مہم میں لاکھوں ڈالر دیے تھے۔
مائیکروسافٹ (MSFT.O) اور جے پی مورگن (JPM.N) نے اعلان کے بعد اپنے ایچ-1بی ویزہ ہولڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکا میں ہی رہیں۔ ان کمپنیوں نے ان ملازمین کو بھی کہا جو امریکا سے باہر ہیں کہ وہ ہفتہ کی رات بارہ بجےسے پہلے واپس آ جائیں یعنی اس وقت سے قبل جب نئی فیس کا حکم نافذ ہو جائے گا ۔
جے پی مورگن کے ملازمین کو ایک ای میل میں کہا گیا:”ایچ-1بی ویزہ ہولڈرز جو اس وقت امریکا میں ہیں، وہ امریکا میں ہی رہیں اور بین الاقوامی سفر سے گریز کریں جب تک کہ حکومت واضح سفری ہدایات جاری نہ کرے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام کمپنیوں کو اجرتیں کم رکھنے اور امریکیوں کو ملازمتوں سے باہر رکھنے کا موقع دیتا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ انتہائی ہنر مند افراد لاتا ہے جو ٹیلنٹ کے خلا کو پورا کرتے ہیں۔ ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک، جو خود بھی کبھی ایچ-1بی ویزہ ہولڈر رہ چکے ہیں، نے اسے امریکا کی مسابقتی صلاحیت کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا کہ کچھ آجر اس پروگرام کا غلط استعمال کرتے ہیں تاکہ اجرتیں کم رکھی جائیں اور امریکی کارکنوں کو نقصان پہنچے۔
2000 سے 2019 کے درمیان امریکا میں غیر ملکی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کارکنوں کی تعداد دگنی ہو کر تقریباً 25 لاکھ تک پہنچ گئی، حالانکہ اسی مدت میں مجموعی STEM روزگار میں صرف 44.5 فیصد اضافہ ہوا۔
عالمی ٹیلنٹ کی حوصلہ شکنی
مینلو وینچرز کے پارٹنر دیدی داس نے X پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ نئی فیسیں لگانے سے امریکا میں دنیا کے بہترین دماغوں کو لانے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اگر امریکا بہترین ٹیلنٹ کو اپنی طرف کھینچنے سے رک گیا تو وہ اپنی جدت اور معیشت کی ترقی کی صلاحیت کھو دے گا۔
یہ اقدام کمپنیوں پر کروڑوں ڈالر کے اضافی اخراجات ڈال سکتا ہے، جو خاص طور پر چھوٹی ٹیک فرموں اور اسٹارٹ اپس کے لیے مشکل ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ فیس کس طرح وصول کی جائے گی۔ لٹ نِک کا کہنا ہے کہ ویزہ کی مدت کے تین سال کے لیے فی سال ایک لاکھ ڈالر لاگو ہوں گے لیکن تفصیلات "ابھی زیر غور ہیں۔”
موجودہ نظام میں ویزہ لاٹری میں داخلے کے لیے معمولی فیس لی جاتی ہے اور منظوری کے بعد چند ہزار ڈالر کے اضافی اخراجات لگ سکتے ہیں۔
کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیس کمپنیوں کو اپنا اعلیٰ قدر والا کام بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے امریکا چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔
ای مارکیٹر کے تجزیہ کار جیریمی گولڈمین کا اس حوالے سے کہنا ہے مختصر مدت میں تو واشنگٹن کو اچھی خاصی آمدنی ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں امریکا اپنی اختراعی برتری کھو دے گا اور متحرک معیشت کو وقتی تحفظ پسندی کے بدلے میں قربان کر دے گا۔
پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہونگے
گزشتہ سال ایچ-1بی ویزوں کے 71 فیصد مستفید ہونے والے بھارتی شہری تھے، جبکہ چین دوسرے نمبر پر تھا جس کا حصہ صرف 11.7 فیصد تھا۔ ان ویزوں سے مستفید ہونے والوں میں پاکستانی بھی شامل ہیں ۔
2025 کی پہلی ششماہی میں، ایمیزون اور اس کی کلاؤڈ یونٹ AWS کو 12 ہزار سے زائد ایچ-1بی ویزوں کی منظوری ملی، جبکہ مائیکروسافٹ اور میٹا پلیٹ فارمز کو 5ہزار سے زیادہ۔
لٹ نِک نے جمعہ کو کہا کہ تمام بڑی کمپنیاں اس پر راضی ہیں۔ہم نے ان سے بات کی ہے تاہم بہت سی بڑی امریکی ٹیک، بینکنگ اور کنسلٹنگ کمپنیاں تبصرہ کرنے سے گریزاں رہیں۔ بھارتی سفارت خانہ اور چینی قونصل خانہ بھی فوری تبصرے کے لیے دستیاب نہ ہو سکے۔
ٹیکنالوجی کمپنی کگنیزنٹ کے شیئرز تقریباً 5 فیصد گر گئے، جبکہ بھارتی ٹیک کمپنیوں انفوسس اور وِپرو کے امریکی لسٹڈ شیئرز میں 2 سے 5 فیصد کمی ہوئی۔
امیگریشن پر کریک ڈاؤن
امریکن امیگریشن کونسل کے پالیسی ڈائریکٹر ایرون ریچلن-ملنک نے نئی فیسوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا:
کانگریس نے حکومت کو صرف اتنی ہی فیسیں وصول کرنے کی اجازت دی ہے جو درخواست پر کارروائی کی لاگت پوری کرے۔
ایچ-1بی پروگرام کے تحت سالانہ 65ہزار ویزے دیے جاتے ہیں، اور اعلیٰ ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے اضافی 20ہزار ۔تقریباً تمام فیسیں آجر کو ادا کرنی پڑتی ہیں۔ یہ ویزے تین سے چھ سال کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعہ کو ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے جس کے تحت جو لوگ امریکا میں مستقل رہائش کے لیے 10 لاکھ ڈالر ادا کر سکتے ہیں، انہیں "گولڈ کارڈ” دیا جائے گا۔





