رافعہ زاہد کی رپورٹ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکومت نے بگرا م ایئر بیس امریکہ کو واپس نہ کیا تو “بہت برے نتائج” سامنے آئیں گے۔
ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں کہا کہ بگرام ایئر بیس خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق یہ بیس صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے اسٹریٹجک توازن کے لیے ضروری ہے۔تاہم طالبان نے ٹرمپ کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری کسی قیمت پر مذاکرات کے لیے پیش نہیں کی جا سکتی۔ طالبان ترجمان نے واضح کیا:“ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دی جائے گی۔”یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ دباؤ صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے اسٹریٹجک کھیل کا حصہ ہے۔بیگرام ایئر بیس وہی مقام ہے جہاں سے امریکہ نے دو دہائیوں تک اپنی افغانستان پالیسی کو چلایا اور جہاں سے 2021 میں انخلاء کے بعد دنیا کو حیران کن تصاویر دیکھنے کو ملیں۔
اب ٹرمپ اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سخت بیانات دے رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ اس تنازعے کو اپنی انتخابی سیاست میں بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ امریکہ کو “طاقت کے ساتھ واپس لانے” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔فی الحال طالبان کا مؤقف دوٹوک ہے اور صورتحال کسی بڑے سفارتی یا عسکری بحران کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔





