تحریر : سمیرا سلیم
کسی بھی ملک کا پاسپورٹ اس ملک کے اندرونی معاملات اور حالات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پاسپورٹ کی طاقت کا انحصار اس ملک کی معیشت ، جمہوریت ، انسانی حقوق کے تحفظ ، آزادی رائے ، امن، سیاسی استحکام اور سفارتی تعلقات کی وسعت پر ہوتا ہے۔ افسوس کے پاکستانی پاسپورٹ ہر گزرتے سال کے ساتھ گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔
رواں برس بھی ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی وقعت بدترین پاسپورٹ کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ مسلسل پانچ سال سے پاکستانی پاسپورٹ میں ذرہ برابر بھی بہتری نہیں آئی۔ ملک بننے کے تقریباً آٹھ دہائیوں کے بعد پاکستان کا پاسپورٹ دنیا میں اپنا مقام بلند کرنے کے بجائے زبوں حالی کا شکار ہو گیا ہے۔
قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں میں ملکی پاسپورٹ مضبوط حیثیت رکھتا تھا۔ طاقتور ممالک پاکستانیوں کو آمد پر ویزا جاری کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک ہندوستان نے بھی یہ سہولت دیئے رکھی ۔ یہ سلسلہ 1970 تک چلتا رہا۔ امریکہ نے 1970 میں پاکستان کے لئے یہ پالیسی ختم کر دی۔ سوویت یونین نے 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ و یورپ کو اپنی سلامتی خطرے میں دکھائی دی ۔ امریکہ و یورپ کی سرپرستی میں پاکستان،سویت ہونین کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کیلئے میدان میں اترا۔ جس کے نتیجے میں افغان پناہ گزینوں کا اک سیلاب پاکستان امڈ آیا۔ملک بھر میں غیر قانونی اسلحے، منشیات کی بہتات ہوگئی۔ افغان پناہ گزینوں کو کسی ایک جگہ محدود کرنے کے بجائے پورے ملک میں پھیلنے کی اجازت دی گئی۔ اس جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے کا یہ صلہ ملا کہ 1983 میں برطانیہ اور دیگر بڑے یورپی ممالک نے پاکستانیوں کو آمد پر ویزا دینے کی پالیسی ختم کر دی۔ جن کی جنگ لڑ رہے تھے انہی ملکوں نے اپنے ملک آمد کے راستے تنگ کر دیئے۔
آج حالات یہ ہیں کہ پاکستانی پاسپورٹ کئی درجے تنزلی کے بعد اب عالمی درجہ بندی میں 103ویں نمبر پر ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز اب دنیا کے صرف 30 ممالک میں آمد پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں جس میں قطر، مالدیپ، نیپال، سری لنکا، کمبوڈیا، تیمور لیسٹے شامل ہیں، جبکہ افریقہ کے جن ممالک میں آمد پر یہ سہولت میسر ہے ان میں برونڈی، کومورو جزائر، کیپ وردے جزائر، جبوتی، گنی بساؤ، کینیا، مڈغاسکر، موزمبیق، روانڈا، سینیگال اور سیرا لیون وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح سے کچھ کیریبین ممالک کا ویزا بھی آمد پر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس لسٹ پر نظر دوڑائیں تو ان میں سوائے قطر کے کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں پاکستانیوں کی اکثریت رہنے یا سیر کرنے میں دلچسپی رکھتی ہوگی۔
پاکستان کی پاسپورٹ عالمی رینکنگ میں تنزلی کی بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام اور بیڈ گورننس ہے، خیر سے جب سے وطن عزیز معرضِ وجود میں آیا ہے اس کو استحکام نصیب نہیں ہوا۔ پاکستان کا زیادہ تر سفر مارشل لاء کے زیر سایہ رہا اور جب کبھی جمہوریت آئی تو اس وقت بھی اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی تھی۔سیاستدانوں کا کردار محض کٹھ پتلیوں کا رہا۔عوام بھی سوچتی ہوگی کہ حالیہ سفارتی کامیابیاں کیوں نہ پاسپورٹ کی رینکنگ کو بہتر کر سکی۔ تو وجہ یہ ہے کہ صرف امریکا کے صدر کی تعریف ہمیں وہ مقام نہیں دلا سکتی۔
کوئی شک نہیں کہ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف نے خوشامد کے فن کو جس معراج تک پہنچایا ہے وہ سفارتکاری کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ممکن ہے کہ مستقبل میں اسے سفارتکاروں کے تربیتی نصاب کا حصہ بنا دیا جائے تاکہ آئندہ نسلیں بھی استفادہ کر سکیں۔کسی بھی ملک کا مستحکم گورننس ڈھانچہ، مضبوط معیشت ، تجارت، مضبوط سفارت کاری، سیکیورٹی اور ثقافتی تبادلے وہ اہم عوامل ہیں جو اس کے امیج کو بہتر بنانے کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کے معاشی وسیاسی حالات سے دنیا بخوبی واقف ہے اور وہ پاکستان کو اسی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین رکھنا ہوگی کہ صرف خوشامد سے کام نہیں چلے گا۔ عالمی برادری میں اگر اپنے پاسپورٹ کی عزت کروانی ہے تو ملک میں سیاسی و معاشی استحکام ، مضبوط اور آزاد نظام عدل، انسانی حقوق کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی، دہشتگردی اور بیروزگاری کا خاتمہ ضروری ہے، محض وقتی سفارتی پذیرائی سے پاسپورٹ کو عزت نہیں ملے گی۔





