لیجنڈ بھارتی اداکارستیش شاہ شاہ گردے فیل ہونے کے باعث 74برس کی عمر میں انتقال کر گئے
بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اور سینئر اداکار ستیش شاہ 74 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے ، فلم ساز اشوک پنڈت کے مطابق ستیش شاہ کی موت گردوں کے فیل ہونے کے باعث ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق اشوک پانڈت نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اداکار کی تصویر اور ویڈیو شیئر کرتے ہوئے افسوسناک خبر دی۔ویڈیو پیغام میں اشوک پانڈت نے کہاکہ ’’میں نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دے رہا ہوں کہ ہمارے دوست، شاندار اداکار ستیش شاہ اب اس دنیا میں نہیں رہے انہیں گھر میں طبیعت خراب ہونے پر اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی میت کو جلد باندرہ میں واقع رہائش گاہ پر منتقل کیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ستیش شاہ کا انتقال بھارتی فلم انڈسٹری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔میں نے ان کے ساتھ بہت کام کیا۔ وہ صرف بہترین اداکار ہی نہیں بلکہ ایک نہایت عمدہ انسان بھی تھے۔
ستیش شاہ نے اپنے فنی کیریئر میں "جانے بھی دو یارو”، "سارابھائی ورسز سارابھائی”، "میں ہوں نا” اور "اوم شانتی اوم” سمیت کئی مشہور فلموں اور ڈراموں میں یادگار کردار ادا کیے۔
ان کے مشہور ٹی وی شو "سارابھائی ورسَس سارابھائی” نے ان کی مقبولیت کو جنریشن زی (Gen Z) تک پہنچا دیا — چاہے وہ خود شو دیکھ کر ہو یا انسٹاگرام پر بننے والے میمز کے ذریعے۔
لیکن ان کی سب سے غیر معمولی اور شاندار اداکاری شاید 1983 کی کلٹ کلاسک فلم "جانے بھی دو یارو” میں تھی — ایک ایسی فلم جس میں اتنے باصلاحیت اداکار شامل تھے کہ آج بھی کوئی بھی ہدایت کار اس کاسٹ کا خواہشمند ہوگا۔
اس فلم میں، جسے ساتھی گجراتی ہدایت کار کُندن شاہ نے بنایا تھا (جو 2017 میں انتقال کر گئے)، ستیش شاہ نے میونسپل کمشنر ڈی’میلو کا کردار ادا کیا۔فلم میں ناصرالدین شاہ، روی بسوانی، اوم پوری، اور پنکج کپور جیسے بڑے نام بھی شامل تھے۔فلم کے آغاز میں ہی ڈی’میلو کا کردار مر جاتا ہے، لیکن اس کی لاش کہانی کے مرکزی محور کے طور پر ابھرتی ہے — وہی محور جس کے گرد فلم کی ساری افرا تفری گھومتی ہے، حتیٰ کہ آخری "مہابھارت” اسٹیج پلے تک۔
ایک یادگار اور بے حد مزاحیہ منظر میں، بدعنوان بلڈر اہوجا (اوم پوری)، جو نشے میں دھت ہوتا ہے، ایک تابوت میں پڑی ڈی’میلو کی لاش کو گاڑی سمجھ بیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کا "ڈرائیور” پنکچر ٹھیک کرنے میں مدد مانگ رہا ہے۔وہ پہلے چیختا ہے: “گاڑی اسٹارٹ کرو!”پھر ٹائر لاتا ہے، مگر کہتا ہے “یہ تو بڑا ہے!”آخرکار وہ فیصلہ کرتا ہے کہ گاڑی کو رسی سے گھسیٹ لے۔
ادھر ستیش شاہ کا جسم بالکل ساکت ہے، چہرے پر ایک "پاکیزہ” تاثر۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی’میلو کی "لاش” کے تاثرات بدلتے رہتے ہیں ۔کہیں آنکھیں کھل جاتی ہیں، کہیں منہ کے تاثرات بدل جاتے ہیں — گویا وہ ابھی بھی اردگرد کے حالات کو دیکھ اور سمجھ رہی ہو۔فلم کے روایتی تجزیے کے مطابق، یہ سب “تسلسل کی غلطیاں” (continuity errors) سمجھی جاتیں،لیکن دراصل یہ ایک سوچی سمجھی تخلیقی حکمتِ عملی تھی۔
ستیش شاہ نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ سب امپرووائزیشن (یعنی موقع پر طے کیا گیا عمل) تھا،اور ڈی’میلو کی لاش کو وہ ایک علیحدہ کردار سمجھ کر نبھا رہے تھے۔ہدایت کار کُندن شاہ اور دیگر اداکاروں کو یہ خیال پسند آیا کہ لاش کے تاثرات بڑھتی ہوئی مضحکہ خیزی کی عکاسی کریں۔ستیش شاہ کے اس کردار کو بے حد پسند کیا گیا ۔





