جند: ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 50 نوجوانوں کو امریکہ سے ہتھکڑیاں لگا کر بھارت ڈیپورٹ کر دیا گیا ۔ ان پر الزام تھا کہ 25 سے 30 کی عمر کے ان نوجوانوں پر ڈنکی لگا کر امریکہ پہنچنے کا الزام تھا ۔
کیتھل کے 14 نوجوانوں میں سے ایک، نریش کمار، جسے امریکہ سے ڈی پورٹ کیا گیا، نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا "میں نے اپنی زرعی زمین بیچی اور ایک ایجنٹ کو 57 لاکھ روپے دیے تاکہ وہ مجھے پاناما کے جنگل کے راستے امریکہ پہنچا دے۔ میں نے 14 ماہ جیل میں گزارے اور پھر ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
نریش نے الزام لگایا کہ ایجنٹ نے ہر سرحد پار کرتے وقت اس سے مزید رقم وصول کی۔اس کا کہنا تھا کہ شروع میں اس نے 42 لاکھ روپے لیے، پھر گواتمالا میں 6 لاکھ، مزید 6 لاکھ جب میں میکسیکو پہنچا، اور باقی رقم سرحد پار کرتے وقت لے لی۔ لیکن مجھے محفوظ طریقے سے امریکہ پہنچانے کے بجائے، انہوں نے مجھے گرفتار کروا دیا اور جیل بھیج دیا۔نریش نے ایجنٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور دوسروں سے اپیل کی کہ وہ "ڈنکی” راستہ اختیار نہ کریں۔
ذرائع کے مطابق، 16 نوجوان کرنال سے، 14 کیتھل سے، 5 کرکشیتر سے، 3 جند سے اور چند دیگر امبالہ، پانی پت اور آس پاس کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
کرنال پولیس کے ڈی ایس پی سندیپ کمار نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی ٹیم نے کل 16 افراد کو وصول کیا۔ایک پولیس افسر نے کہا، "ان نوجوانوں کو دہلی ایئرپورٹ سے سی ایم اسکواڈ کے اہلکاروں نے لایا اور پولیس لائن میں ان کے خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔
کیتھل ایس پی اپاسنا نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ تمام ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو ان کے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تمام ریکارڈز کی تفصیل سے جانچ کی جا رہی ہے اور ایک شخص کا مجرمانہ پس منظر بھی پایا گیا ہے۔
جند کے ایس پی کلدیپ سنگھ نے بتایا کہ تین مقامی افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ جانے کے بعد وہاں سے واپس بھیجا گیا۔ ڈی ایس پی سندیپ کمار نے انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا۔
ایس پی سنگھ نے خبردار کیا کہ ڈنکی راستے سے بیرونِ ملک جانا ایک سنگین مجرمانہ جرم ہے اور یہ ہمارے معاشرے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس طرح کے غیر قانونی سفر نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ زندگی کے لیے بھی خطرہ ہوتے ہیں۔ کئی معاملات میں نوجوانوں کو جسمانی تشدد، دھوکہ دہی اور حتیٰ کہ موت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
ایس پی نے ضلع کے تمام رہائشیوں سے اپیل کی کہ جو بھی بیرون ملک جانا چاہے، وہ ہمیشہ قانونی اور درست ذرائع سے جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ایسے واقعات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور جو کوئی بھی نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔





