تحریر: سمیر اسلیم
ہر سال موسم سرما کا آغاز لاہور اور پنجاب کے باسیوں کے لئے درد سر بن جاتا ہے۔ فضا میں نائٹروجن آکسائیڈ اور دیگر کیمیکلز مل کر نیلگوں آسمان کو سموگ سے ڈھانپ دیتے ہیں۔ سموگ دراصل انسانی صحت کے لئے انتہائی خطرناک قسم کی فضائی آلودگی ہے جو دھوئیں اور فوگ سے ملکر بنتی ہے۔ فیکٹریوں کا دھواں و زہریلی گیسز کا اخراج ، گاڑیوں کا دھواں ،کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر، بھٹوں سے نکلنے والا دھواں اور فصلوں کی باقیات کو جلانا، جنگلات اور درختوں کی کٹائی سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے، اب فضائی آلودگی بھی ایک بہت بڑا خطرہ بن کر سامنے آ یا ہے ۔ اور ہم ہیں کہ شہروں سے گرین بیلٹس ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، یہاں تک کہ پرانے اور سایہ دار درختوں کو بھی بے رحمی سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ گزشتہ روز ہی لاہور میں ڈیڑھ سو سال پرانا برگد کا درخت کاٹ دیا گیا۔ حیرت ہے کہ اتنے پرانے درخت کو کاٹنے کے لئے این او سی کیسے مل گیا۔
موسم بدلتے ہی پاکستان کے بڑے شہر لاہور ، پشاور ، اسلام آباد اور کراچی سموگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں مگر لاہور ان میں سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے، اور گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سہرفہرست بھی ہے۔ ایک وقت تھا کہ بھارت کا دہلی دنیا کا آلودہ ترین شہر تھا مگر اب یہ اعزاز حکمرانوں کی ان تھک کوششوں سے لاہور شہر کو مل گیا ہے۔اب دونوں حریفوں میں سموگ میں نمبر ون رہنے کا مقابلہ جاری ہے۔ کبھی بھارت کا دہلی پہلے نمبر پر آ جاتا ہے تو کبھی ہمارا پیارا لاہور۔ لاہور میں فصائی آلودگی 2015 سے حد سے زیادہ بڑھنا شروع ہوئی۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 2015 میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں دعوی کیا گیا کہ تقریبآ 60 ہزار پاکستانی فضائی آلودگی یا ہوا میں باریک ذرات کی بلند سطح سے موت کا شکار ہوئے۔ 2017 میں نیو یارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ پاکستان کے شہر لاہور میں سموگ سال کا پانچواں موسم بن گیا ہے۔ حالانکہ اکتوبر 2017 میں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی حکومت نے اینٹی سموگ پالیسی بھی بنائی ۔ اس پالیسی کا ایک مقصد لاہور اور گردونواح میں شدید سموگ کی وجوہات کو تلاش کرنا، اور پھر شارٹ و لانگ ٹرم پلان کو ترتیب دینا تھا۔ سات سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید سنگین ہو گئے ہیں ۔اس دوران شہباز شریف، عثمان بزدار(وسیم اکرم پلس) ،محسن نقوی(نگران وزیر اعلی) وزارت اعلی کے عہدوں پر رہے مگر سموگ پر قابو پانے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔اب محترمہ مریم نواز کو بھی حکومت میں آئے ڈیڑھ سال سے زائد ہوگیا ہے۔ گزشتہ برس پنجاب حکومت نے سموگ کا ذمہ دار بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلائے جانے کو قرار دیا تھا اور اس بار ملبہ بھارت میں دیوالی کی تقریبات میں شرلی پٹاخے پھوڑنے پر ڈال دیا گیا ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ہر سال سموگ لاہور والوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے مگر حکومت سموگ کی وجوہات پر قابو پانے کی بجائے سستی شہرت کی سیاسی چالیں چلنے پر ہی مطمئن ہے۔ گذشتہ دنوں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میں فضائی آلودگی سے متاثر 19 ہزار مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس ملک کا المیہ ہے کہ یہاں کوئی پالیسی بنانے یا کوئی پراجیکٹ لانچ کرنے سے پہلے سائنسی بنیادوں پر تحقیق نہیں کی جاتی جس کے بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ کلائمیٹ ریزلئنٹ پنجاب پروگرام کے تحت سموگ سے نمٹنے کے لئے پنجاب حکومت نے چین سے 15 فوگ کینن گن خریدیں۔ ایک گن کی قیمت 45 ملین (ساڑھے چار کروڑ) روپے سے بھی زیادہ ہے۔ اس فوگ گن کے استعمال سے بھی خاطر خواہ نتائج برامد نہیں ہوئے۔ چین نے جب یہ فوگ کینن والا تجربہ کیا تھا تو معلوم ہوا کہ فضا صاف ہونے کی بجائے مزید آلودہ ہو گئی ہے۔ اس پر 2023 میں ایک تحقیقی آرٹیکل بھی چھپا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ مسٹ کینن ٹرک (فوگ کینن گن) فضا میں پانی میں حل پذیر نامیاتی ایروسول اور PM2.5 آلودگی کی تشکیل کو کم کرنے کی بجائے بڑھا سکتے ہیں۔چین نے اس کا استعمال بند کر دیا۔ ہمارے حکمرانوں کی عقلمندی دیکھیں کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے اس ناکام تجربے کو اٹھا کر پنجاب لے آئے ہیں۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی ن لیگ کی حکومت نے ہر وہ ٹیکنالوجی چین سے قرضے پر حاصل کی جس کا استعمال چین والوں نے اپنے ملک کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہوئے بند کیا۔ چین نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کیلئے اپنی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 2030 تک انتہائی کم کرنے اور 2060 تک مکمل طور پر ختم کرنے کے غرض سے کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔
پرانے کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو بھی بند کر دیا ہے ۔ جبکہ انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کے بعد پاکستان وہ تیسرا ملک ہے جہاں 7.3 ارب ڈالرز لاگت کے کئی کول پاور کے منصوبے تعمیر کیے۔ جن میں سے ساہیوال کول پاور پلانٹ بھی ہے۔ پاکستان میں سموگ کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس ہیں۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ منصوبے کی بھی الگ کہانی ہے ۔ جب یہ منصوبہ شروع ہونے جا رہا تھا تو اس کے خلاف ساہیوال کی عوام نے بہت دہائی دی، عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا لیکن شنوائی نہ ہوئی۔ سابق نگران وزیر بجلی محمد علی نے 2023 میں پاور پلانٹس کے لئے کوئلے کی خریداری پر سوالات اٹھنے پر ساہیوال کول پاور پروجیکٹ کے لیے کوئلے کی خریداری کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ جب دیگر صنعتی کمپنیاں 45 ہزار فی ٹن سے بھی کم پر کوئلہ خرید رہیں تھیں تب پی ڈی ایم کی حکومت میں ساہیوال کول پاور پلانٹ جون 2022 سے دسمبر 2022 کے دوران 74 ہزار فی ٹن سے کوئلہ خرید رہا تھا جس کا خمیازہ عوام کو بھاری بلوں کی صورت میں الگ برداشت کرنا پڑا تھا۔
چین اینٹی سموگ گنز کے ناکام تجربے کے بعد ایک کثیر الجہتی اپروچ کے ذریعے سموگ کو کم کر رہا ہے۔ چین کے کلیدی اقدامات میں کوئلے کی کھپت کو کم کرن، گھریلو اور صنعتی شعبے میں کوئلے کو قدرتی گیس سے تبدیل کرنا، الیکٹرک گاڑیوں و پبلک ٹرانسپورٹ کی تیزی سے توسیع کے علاؤہ پاور پلانٹس اور کارخانوں میں آلودگی کنٹرول ٹیکنالوجی کی تنصیب پالیسی کا بنیادی حصہ ہیں۔ اس کے علاؤہ چین نے جنگلات کو بڑھانے کے لئے 100 ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ 12 صوبوں میں 35 ارب سے زیادہ درخت لگائے گئے ہیں۔ دوسری جانب سموگ پر قابو پانے کے لئے پڑوسی ملک بھارت نے دہلی شہر کی آلودہ ہوا کو صاف کرنے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ کا تجربہ کیا ہے۔ جبکہ کلاؤڈ سیڈنگ کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک سموگ کی بنیادی وجوہات پر توجہ نہیں دی جاتی سموگ سے نمٹنے کے لئے مصنوعی بارش بےکار ہے۔
ہمارے ہاں عارضی سیاسی آپٹکس کے لئے غریب عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ان منصوبوں پر اڑایا جاتا ہے جو مسئلے کا حل نہیں ۔اگر حکمران واقعی فصائی آلودگی اور سموگ سے نمٹنے میں سنجیدہ ہیں تو انھیں چین کی پالیسی سے دیکھنا ہوگا۔جب تک فضائی آلودگی کے اسباب اور محرکات پر قابو نہیں پایا جائے گا، تب تک سموگ سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں۔





