خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں چار دسمبر کو لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش اسی ضلع کے نواحی علاقے سے برآمد کی گئی ہے اور تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کی ایک قریبی دوست نے انھیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر قتل کیا ہے۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر وردہ کے قتل کے الزام میں ان کی بچپن کی دوست اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس کیس میں 67 تولہ سونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پانچ دسمبر کو ڈاکٹر وردہ کے والد کی درخواست پر ایبٹ آباد کے تھانہ کینٹ میں مقتولہ کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ مقتولہ نے دو برس قبل دبئی جانے سے پہلے 67 تولہ سونا اپنی ایک دوست کے پاس امانتاً رکھوایا تھا اور ’یہی سونا ڈاکٹر وردہ کے قتل کی وجہ بنا۔‘
ڈی پی او ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وردہ کو قتل کرکے ٹھنڈیانی کے قریب دفنایا گیا تھا، وردہ کو بظاہر گلا دبا کر قتل کیا گیا، اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد معلوم ہوگی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی چار ملزمان نے کی، چوتھے کی تلاش جاری ہے، ملزمان پر مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی لاش لڑی بنوٹا کے مقام سے ملی تھی۔
ڈاکٹر وردہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں تعینات تھیں، 4 دسمبر کو اپنی دوست کے ساتھ گاڑی میں اسپتال سے گئیں۔
پولیس تحقیقات کے مطابق وردہ نے 67 تولہ سونا اپنی دوست ردا کے پاس امانتاً رکھوایا تھا، وردہ نے واپسی کا مطالبہ کیا تو ملزمہ نے ٹال مٹول سے کام لیا، ملزمہ نے سونا گروی رکھ کر 50 لاکھ روپے کی رقم بھی حاصل کر رکھی تھی۔ 4 دسمبر کو ملزمہ سونا واپس کرنے کا کہہ کر ڈاکٹر وردہ کو اسپتال سے اپنے ساتھ لے کر گئی۔
ڈی پی او کے مطابق اس کے ایک گھنٹے کے اندر ڈاکٹر وردہ کو قتل کردیا گیا، ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر کے قتل کے خلاف ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور سول سوسائٹی نے احتجاج کرکے فوارہ چوک پر شاہراہ قراقرم بلاک کردی۔





