قومی اسمبلی کا اجلاس تقریباً 11 بچ کر 15 منٹ پر شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہونے کے کچھ دیر بعد کورم کی نشاندہی کی گئی لیکن گنتی پر کورم پورا نکلا اور اجلاس کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی۔
اسلام آباد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شذرہ منصب نے کہا کہ اسلام آباد اب بہت پھیل گیا ہے اس لیے پینے کے پانی اور رہائش کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
دوسرا سوال بینظیر انکم سپورٹ کے بارے میں تھا کہ اس پروگرام کے فنڈز کتنے ہیں؟ حکومت کی طرف سے جواب آیا کہ بینظیر انکم سپورٹ کے فنڈز کی مالیت 716 ارب روپے ہو چکی ہے۔
اس کے بعد پنجاب میں آلودگی کے خلاف کیے گئے اقدامات کے بارے میں سوال کے جواب میں شذرہ منصب نے کہا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آلودگی کے خاتمے کیلئے سموگ گنز لگا دی ہیں جو سموگ کے بارے میں معلومات فرام کرتی ہیں ۔دوسری جانب انڈسٹریز کو جرمانے کیے ہیں اور اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ کیا ہے تاکہ وہ آلودہ دھواں خارج نہ کریں۔
بس اتنی کاروائی ہوئی اور تحریک انصاف کے ایک رکن نے پھرکورم کا اعتراض اٹھا دیا۔ گنتی ہوئی اور سپیکر نے اسی اثنا میں دیکھتے ہی دیکھتے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جبکہ اجلاس ملتوی ہونے کے آثار نظر نہیں آتے تھے۔
اس کے بعد پیپلز پارٹی نے ہنگامی پریس کانفرنس کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت پسند پارٹی ہے اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے پارلیمان کو مضبوط کرنا ضروری ہے لیکن حکومت اس معاملے میںسنجیدہ نہیں ہے۔ آج کا اجلاس ملتوی کرنے کی وجہ نہیں تھی مجھے تو یہ مک مکا لگتا ہے جیسے پیچھے سے اجلاس ملتوی کرنے کا اشارہ تھا کورم کا مسئلہ نہیں ابھی ارکان لابیز سے آ رہے تھے کہ سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
شازیہ مری نے کہا کہ پانچ ارکان قومی اسمبلی نے توجہ دلائو نوٹس دیا کہ ایئر پورٹ شفٹ ہونے کے بعد دوبارہ اس کا نام بینظیر ائرپورٹ کیوں نہیں رکھا گیا۔ اس سوال کے جواب کیلئے وزیر دفاع نے آنا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔ حکومت نے اس سوال کے جواب سے بچنے کے لیےکورم پورا نہ ہونے کا ڈرامہ کیا حالانکہ بینظیر بھٹو بہت بڑی لیڈر تھیں، ان کی ملک اور جمہوریت کے لیے بے پناہ قربانیاں تھی ،ان کا نام عالمی سطح کے لیڈروں کے ساتھ آتا ہے ۔بینظیر بھٹو کے نام کی بقاء ایک ائرپورٹ کا نام رکھنے سے مشروط نہیں ہے لیکن یہ ایک اصولی موقف ہے کہ پہلے ایک ائرپورٹ کا نام بینظیر ایئر پورٹ تھا تو اب شفٹ ہونے کے بعد اس کا نام کیسے تبدیل ہو سکتا ہے ۔
عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ایک وقت میں سپریم کورٹ کراچی میں تھی لیکن جب اس کو اسلام آباد شفٹ کیا گیا تو کیا اس کا نام تبدیل ہو گیا ؟جب بینظیر ائرپورٹ شفٹ ہوا تو اس کا نام وہ کیوں نہیں رہا جو پہلے تھا ۔انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے بعد ہمارا خیال تھا کہ ان کے پیٹ سے مروڑ ختم ہو گیا ہوگا لیکن ابھی تک ان کو بینظیر کے نام سے مروڑ اٹھتا ہے حالانکہ بینظیر کو دنیا مانتی اور جانتی ہے۔شفیق لغاری کی رپورٹ





