سمیرا سلیم کا بلا گ
سہیل آفریدی کو عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کا پیغام ملا تو وہ پہلے اسلام آباد کی سڑکوں پر عوام کے درمیان جلوہ گر ہوئے، پھر اگلا پڑاؤ لاہور میں ڈالا ۔ اب کراچی جانے کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔ مگر فی الحال خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنا تین روزہ دورہ پنجاب مکمل کر کے واپس اپنے صوبے جا چکے ہیں۔
لاہور میں عوام نے تو عمران خان کے کھلاڑی کا استقبال کیا، 3 سال سے جاری فسطائیت کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکلے اور اپنے جذبات کا اظہار کیا مگر پنجاب سرکار کی بے جا سختیوں نے سہیل آفریدی کے وزٹ کو اہم بنا دیا۔ سرکاری سطح پر 40 ملین لوگوں کے منتخب وزیراعلی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اور جس طرح تضحیک کی گئی اس نے چھوٹے صوبوں کو پیغام دیا ہے کہ تخت لاہور بارے ان کے تحفظات بے بنیاد نہیں ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے پی کے دورہ لاہور کو ناکام کرنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں وہ کوئی انتظامی نااہلی نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ تھا، سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا۔ جب سے ہائبرڈ نظام معرضِ وجود میں آیا ہے، سیاسی مخالفین کے لئے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ گالم گلوچ اور بدتہذیبی کا دور دورہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے دورۂ کے خلاف سرکای سطح پر سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی، ان کی کردار کشی کی گئی اور اسے منشیات اسمگلنگ تک سے جوڑا گیا۔ نفرت پر مبنی ان اقدامات نے بین الصوبائی ہم آہنگی، روایات ، اقدار اور اخلاقیات کو کہیں دفن کر دیا ہے۔
چند نامعلوم صحافیوں کے ذریعے عامیانہ سوال پوچھنے والوں نے یہ نہ سوچا کہ آگ ان کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ میرے خیال سے کے پی حکومت کی جانب سے گھٹیا سوال کا جواب مثبت انداز میں دینا چاہئے تھا۔ جیسا سوال ویسا جواب ، یہ تہذیب اور اخلاقیات کے یکسر منافی ہے۔ اگر ایسا انتہائی گرا رویہ خیبرپختونخوا میں کسی اور صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہوتا تو ن لیگ و پیپلزپارٹی نے یقیناً آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ دورۂ لاہور کے دوران ہونے والے سلوک پر سہیل آفریدی نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کو خط لکھ کر نہ صرف چارج شیٹ کیا بلکہ اپنا احتجاج بھی رجسٹر کرایا ہے، خط لکھ کر پنجاب حکومت کے غلط اقدام کو تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نا جانے کیوں سہیل آفریدی کے دورہ لاہور سے اتنی خوفزدہ ہو گئی ،کہ عظمیٰ بخاری صاحبہ کو ایکس پر ٹویٹ کے ذریعے کہنا پڑ گیا کہ اب لاہور سے واپس جائیں بس بہت ہو گئی پاکستان کے یورپ کی سیر۔ ویسے جب یہ لوگ لاہور کو یورپ کہتے ہیں تو حیرانگی ہوتی ہے کہ یہ لوگ عوام کے ٹیکسوں سے دنیا بھر کی سیر سپاٹے کرنے کے باوجود اتنی ڈھٹائی سے ایک ایسے شہر کو یورپ کیسے کہہ سکتے ہیں جہاں مون سون میں شہر تالاب بن جائے اور نومبر شروع ہوتے ہی سموگ آسمان کو ڈھانپ لے۔ تعلیم کے سلسلہ میں ناروے کے شہر Bergen قیام کا موقع ملا۔ پہاڑوں میں گھرے اس شہر کی خوبصورتی کسی جنت کا منظر پیش کرتی تھی۔ معلوم ہوا کہ اس شہر میں بارش کسی بھی وقت ہو سکتی ہے اور کئی روز تک مسلسل بارش ہوتی رہتی ہے۔ حیران کن طور پر کئی دن کی بارشوں کے باوجود بھی سٹرکوں اور اردگرد کہیں پانی کے تالاب نظر نہیں آئے۔پتہ چلا کہ وہاں کے سیوریج سسٹم کو موسم کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اب اس میں مزید بہتری کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی بنائی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں اربن فلڈنگ کے خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ پنجاب کو دیکھیں تو یہاں دہائیوں سے حکومت کرنے والے شریف خاندان نے اسٹرکچرل اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے پر کبھی توجہ نہیں دی۔ نعروں کی حد لاہور کو ضرور پیرس اور لندن بنا دیا۔
سہیل آفریدی نے واپس ایک اچھا کام کیا ہے کہ پنجاب حکومت کے ہتک آمیز رویے کے بعد اپنے صوبے کے تمام سرکاری افسران کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ دیگر صوبوں سے آنے والے سرکاری وفود کی روایات اور استطاعت سے بڑھ کر خدمت کریں تاکہ خیبر پختونخوا میں کسی کو اجنبیت محسوس نہ ہو۔ سہیل آفریدی کا یہ اقدام قابل ستائش ہے کہ انھوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ شائستگی سے دیا ہے۔ سہیل آفریدی نے پنجاب کے خودساختہ یورپ سے کچھ سیکھا یا نہیں مگر پنجاب حکومت کو سہیل آفریدی کے حالیہ اقدام سے ضرور سبق سیکھنا چاہئے ۔





