رپورٹ : شفیق لغاری
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں داسو ڈیم کی ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں سنگین تاخیر، بے ضابطگیوں اور ممکنہ بھاری مالی نقصان کے انکشافات سامنے آ گئے۔
کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ داسو ڈیم کی ٹرانسمیشن لائن مکمل ہونے کی مقررہ تاریخ جون 2026 ہے، تاہم اڑھائی سال گزرنے کے باوجود منصوبے کا صرف 39 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے۔ حکام نے آگاہ کیا کہ اگر داسو ڈیم تیار بھی ہو جائے اور ٹرانسمیشن لائن بروقت مکمل نہ ہوئی تو ملک کو روزانہ 2 ارب روپے جبکہ ماہانہ 60 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ پورا منصوبہ آئی ایم ایف کے قرضے سے مکمل کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود کروڑوں روپے کے ٹھیکے بغیر ٹینڈر اور شفاف بولی کے دیے گئے۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ متعلقہ کمپنی نے کھمبے لگانے کے لیے منصوبے کی لاگت کا 39 فیصد ایڈوانس وصول کر لیا ہے، تاہم تاحال کھمبوں کی فاؤنڈیشن تک تیار نہیں کی جا سکی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جن مقامات پر ٹرانسمیشن لائن کے کھمبے نصب کیے جانے ہیں وہاں درخت موجود ہیں، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے درختوں کی کٹائی کی اجازت نہ ملنے کے باعث کام تعطل کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل نہیں ہو سکے گا۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ اگر ڈیم تیار ہو گیا اور ٹرانسمیشن لائن مکمل نہ ہوئی تو روزانہ 2 ارب روپے یعنی ماہانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہو گا۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر منصوبہ مزید تین سال تاخیر کا شکار ہوا تو ہونے والا نقصان منصوبے کی مجموعی لاگت سے بھی تجاوز کر جائے گا۔
اجلاس میں مزید انکشاف کیا گیا کہ داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں اب تک 8 مینیجنگ ڈائریکٹرز تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ ہر ایم ڈی کو سرکاری مراعات کے تحت گھر، گاڑی، ڈرائیور، پٹرول، ٹیلی فون، ٹی اے، ڈی اے کے علاوہ ماہانہ 52 لاکھ روپے تنخواہ دی جاتی رہی، تاہم اس کے باوجود منصوبہ مطلوبہ رفتار حاصل نہ کر سکا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل میں اب صرف 6 ماہ باقی رہ گئے ہیں جبکہ زمینی حقائق کے مطابق اب تک محض 39 فیصد کام مکمل ہو پایا ہے، جو سنگین انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔





