رپورٹ : شفیق لغاری
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں ڈیرہ اسماعیل خان تا ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو ملانے والے بین الصوبائی ہائی وے منصوبے میں غیر معمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ منصوبے کی تکمیل میں اصل رکاوٹ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) خود بن چکی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس اہم بین الصوبائی ہائی وے کا ٹینڈر تین سال قبل مکمل ہو چکا تھا، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی جانب سے 3 ارب 60 کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ منصوبے کے مطابق ہائی وے جون 2027 تک مکمل ہونا تھا، تاہم موجودہ رفتار کے مطابق اس کی تکمیل میں دس سال لگ سکتے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے پر سست روی کے باعث ایشیائی ترقیاتی بینک نے قرضے کی رقم میں 20 فیصد کمی کر دی ہے۔ کمیٹی کے کنوینر کامل علی آغا نے خبردار کیا کہ اگر منصوبہ بروقت مکمل نہ کیا گیا تو اے ڈی بی کی جانب سے دیا گیا قرضہ مکمل طور پر منسوخ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں بینک منصوبہ ہی روک سکتا ہے، جو ملک و قوم کے لیے کسی صورت اچھا شگون نہیں ہوگا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اس سے قبل بھی کنسٹرکشن کمپنی کے طرزِ عمل پر سخت الفاظ استعمال کر چکا ہے۔ اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر کنسٹرکشن کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کیا جائے تو نیا ٹھیکہ دینے میں کتنا وقت لگے گا؟ جس پر بتایا گیا کہ تقریباً تین ماہ درکار ہوں گے۔
اس موقع پر اراکینِ کمیٹی نے اس امکان پر بھی غور کیا کہ اگر کنسٹرکشن کمپنی کا رویہ یہی رہا تو اس کا ٹھیکہ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اس کے پاس مکمل قانونی اختیارات موجود ہیں اور تمام قوانین سے اراکین بخوبی آگاہ ہیں۔
اجلاس میں یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا کہ عموماً نیشنل ہائی وے اتھارٹی کنسٹرکشن کمپنیوں کی پشت پناہی کرتی ہے، ورنہ کسی کمپنی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ منصوبے کی تکمیل میں اس حد تک سستی دکھائے۔ اسی ناقص نگرانی اور بدانتظامی کے باعث اب تک این ایچ اے کے 14 چیئرمین معطل کیے جا چکے ہیں۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ منصوبے کی رفتار فوری طور پر بہتر بنائی جائے، بصورتِ دیگر سخت فیصلے کیے جائیں گے۔





