سمیرا سلیم کا بلاگ
نائب وزیراعظم اور ن لیگ کے معاشی زار اسحاق ڈار نے چند روز قبل قوم کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات فوجی فائونڈیشن گروپ کے کچھ شیئر لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متحدہ عرب امارات کو انگیج کیا ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے اپنے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ میں سے 1 ارب ڈالر مالیت کے فوجی فائونڈیشن کے شیئرز خریدے۔ یہ پریس کانفرنس سن کر پہلا سوال یہ ذہن میں آیا کہ فوجی فائونڈیشن تو پرائیویٹ کاروباری گروپ ہے۔ پھر ایک حکومتی عہدیدار کس حیثیت سے کسی کاروباری گروپ کی طرف سے بات کر رہا ہے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین تاریخی ہم آہنگی نے اس میں کردار ادا کیا ہو گا ؟
بہر حال، یہ ڈیل ہونے جا رہی ہے۔ تاہم ملک میں کوئی نیا پیسہ نہیں آ رہا بلکہ اسٹیٹ بینک کے پاس یو اے ای کے جو 3 ارب ڈالرز ڈیپازٹ ہیں ان میں سے 1 ارب ڈالر کو فوجی فوجی فائونڈیشن میں سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس سے اسٹیٹ بینک کے مجموعی ذخائر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی تاہم قرض اور واجبات میں ایک بلین ڈالر کی کمی ضرور ہو جائے گی۔ حکومت کی اب تک کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ ڈنگ ٹپاو سے کام چلایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے اکتوبر 2025 میں معمولی سرمایہ کاری کے ذریعے فرسٹ ویمن بینک خریدا۔ماضی میں جنرل پرویز مشرف دور میں پاکستان کا تیسرا بڑا بینک یو بی ایل متحدہ عرب امارات کو بیچا گیا۔جس کی ٹرازیکشن 2002 سے 2007 کے دوران تین اقساط میں مکمل ہوئیں۔ پی ٹی سی ایل بھی انہیں کو فروخت ہوا۔
کنٹینر ٹرمینل خریدنے کے ذریعے بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا جو اب مقامی بینکوں سے مالی اعانت حاصل کر رہا ہے۔ ابھی یو اے ای کو اسلام آباد ائیر پورٹ کی آؤٹ سورسنگ کی ڈیل کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔ اور اب ایف ایف ٹرسٹ میں سرمایہ کاری۔
فوجی فاؤنڈیشن 5.90 ارب ڈالرز کے ساتھ پاکستان کے کاروباری گروپوں میں سب سے بڑا کاروباری گروپ ہے۔ ماڑی انرجیز ، فوجی فرٹیلائزرز ، فوجی سیمنٹ اور عسکری بینک اسی گروپ کا حصہ ہیں۔فوجی فاؤنڈیشن کے پاس ماری انرجیز کا 40 فیصد اور فوجی فرٹیلائزرز کا 45 فیصد حصہ ہے۔ ان کمپنیوں کے تقریباً نصف کے قریب حصص فروخت ہونے سے کمپنیوں کا کنٹرول خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ حکومت نے ان کو کافی آپشنز دیں لیکن انہوں نے فوجی فاؤنڈیشن کا انتخاب کیا۔ فوجی فاؤنڈیشن گروپ سے ایک ارب ڈالر مالیت کے شیئرز خریدنا متحدہ عرب امارت کے لیے بہتر آپشن تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک ایک فنڈ قائم کرے گا، فوجی فاؤنڈیشن کو 280 ارب روپے منتقل کئے جائیں گے۔ اس سارے معاملے پر ابھی تک فوجی فاؤنڈیشن کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
کچھ لوگ اس معاملے کو پی آئی اے کی نجکاری سے بھی جوڑ رہے ہیں ۔ اس تاثر کو اس وقت تقویت ملی جب پی آئی اے کی بڈنگ میں حصہ لینے والی فوجی فاؤنڈیشن اچانک نجکاری کے عمل سے نکل جاتی ہے مگر حیرت انگیز طور پر اگلے ہی دن اسی عارف حبیب کنسورشیم کا حصہ بن جاتی ہے جس نے پی آئی اے کو خریدا۔
بہرحال جب یہ ڈیل میچور ہو جائے گی تو اس پراسرار خاموشی میں پنہاں راز بھی سامنے آ جائیں گے۔انٹرنیٹ کے اس دور میں عوام بالخصوص 17 کروڑ نوجوانوں کو بیوقوف بنانا اتنا آسان نہیں رہا۔ اس ڈیل کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک ارب ڈالر کے بدلے حکومت فوجی فاؤنڈیشن کو پاکستانی کرنسی میں 280 ارب روپے کی ادائیگی کیسے کرے گی؟ یہ ڈیل بظاہر اتنی واضح نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس ڈیل کے بدلے حکومت فوجی فاؤنڈیشن کو کیا کچھ عطا کرے گی۔





