جب امریکی افواج نے رات کے وقت وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں چھاپہ مارا تو انہوں نے صرف صدر نکولس مادورو کو اس کے کمپاؤنڈ سے گھسیٹ کر نکال کر نیویارک لے جانے والی کشتی پر نہیں بٹھایا، بلکہ ان کی اہلیہ کو بھی ساتھ لے گئے۔
سیلیا فلوریس، عمر 69 سال، طویل عرصے سے وینزویلا کی طاقتور ترین شخصیات میں سمجھی جاتی رہی ہیں۔ وہ خود بھی ایک منجھی ہوئی سیاسی کھلاڑی ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملک کے حالات پر اثر ڈالا۔
وینزویلا کی نیشنل اسمبلی کی برسوں قیادت کرنے کے بعد، انہوں نے 2013 کے صدارتی انتخابات میں اپنے شوہر کی کامیابی کے بعد اقتدار کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بطور خاتونِ اول، مادورو نے انہیں ’’فرسٹ واریئر‘‘ (پہلی جنگجو) کا لقب دیا۔ تاہم اس کردار میں انہوں نے بظاہر پس منظر میں رہنے کو ترجیح دی اور ایک ایسے نظام کے مقابلے میں، جسے ناقدین ظالمانہ قرار دیتے ہیں، زیادہ خاندانی اور نرم تاثر پیش کیا۔
انہوں نے ایک ٹی وی شو Con Cilia en Familia کی میزبانی کی اور کبھی کبھار سرکاری ٹی وی پر اپنے شوہر کے ساتھ سالسا ڈانس کرتی دکھائی دیں۔ مگر پسِ پردہ، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مادورو کی اہم ترین مشیروں میں سے ایک تھیں اور ان کی سیاسی بقا کی معمار تھیں۔
فلوریس پر بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات لگتے رہے ہیں، اور حالیہ برسوں میں ان کے خاندان کے افراد امریکی عدالتوں میں کوکین اسمگلنگ کے جرم میں مجرم قرار دیے جا چکے ہیں۔
اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ نیویارک کی ایک عدالت میں منشیات اسمگلنگ اور اسلحہ سے متعلق الزامات کا سامنا کریں گی۔
فلوریس کی مادورو سے ملاقات 1990 کی دہائی کے آغاز میں ہوئی، جب وہ ایک نوجوان اور ابھرتی ہوئی وکیل کے طور پر 1992 کی ناکام بغاوت کے منصوبہ سازوں کا دفاع کر رہی تھیں۔
ان میں سب سے نمایاں نام ہیوگو شاویز کا تھا، جو بعد میں صدر بنے۔
انہی برسوں کے دوران ان کی ملاقات مادورو سے ہوئی، جو اس وقت شاویز کے لیے سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے تھے۔
مادورو نے ایک بار بتایا کہ میں نے سیلیا سے زندگی میں ملاقات کی۔ وہ قید میں موجود محبِ وطن فوجی افسروں کی وکیل تھیں۔ وہ کمانڈر شاویز کی بھی وکیل تھیں، اور جیل میں کمانڈر شاویز کی وکیل ہونا… ایک مشکل کام تھا۔
میں نے انہیں انہی جدوجہد کے برسوں میں جانا، اور پھر، خیر، وہ مجھے پسند آ گئیں۔”اس کے بعد ان دونوں کی تقدیریں شاویز اور ان کی سیاسی تحریک ’’چاویزم‘‘ سے جڑ گئیں۔
1998 میں شاویز کے صدر بننے کے بعد فلوریس تیزی سے سیاسی مناصب پر فائز ہوئیں۔ 2000 میں وہ نیشنل اسمبلی کی رکن بنیں اور 2006 میں اس کی سربراہ بن گئیں۔
چھ سال تک انہوں نے ایک ایسی پارلیمان کی قیادت کی جو عملی طور پر ایک جماعتی تھی، کیونکہ مرکزی اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ انتخابات آزاد اور منصفانہ نہیں تھے۔
2013 میں شاویز کی وفات کے بعد، فلوریس نے مادورو کی بھرپور حمایت کی، جنہوں نے اس کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات میں معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی۔
چند ماہ بعد دونوں نے شادی کر لی، یوں ایک طویل رفاقت کو باضابطہ شکل دی، جس کے دوران وہ پہلے سے موجود بچوں کی پرورش کر رہے تھے ان کے تین بچے اور مادورو کا ایک بچہ۔
وینزویلا کے صحافی اور Americas Quarterly کے منیجنگ ایڈیٹر، خوسے اینریکے آریوخا کے مطابق:“وہ مادورو کی حکومت میں ایک نہایت اہم ستون بن گئیں۔ وہ صرف مادورو کی جذباتی رازدار نہیں تھیں بلکہ پیشہ ورانہ مشیر بھی تھیں۔ اور وہ طاقت کی شدید خواہش رکھتی تھیں۔
اپنے پورے کیریئر کے دوران ان پر بدعنوانی کے متعدد الزامات لگے۔2012 میں یونینز نے ان پر اقربا پروری کا الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے تقریباً 40 افراد کو ملازمت دلوانے میں کردار ادا کیا، جن میں ان کے خاندان کے کئی افراد شامل تھے۔
نومبر 2015 میں وہ ’’نارکو نیفیو‘‘ (منشیات فروش بھانجوں) کے کیس میں پھنس گئیں، جب ان کے دو بھانجے فرانسسکو فلوریس ڈی فریئٹس اور ایفرین انتونیو کامپو فلوریس کو امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران ہیٹی میں گرفتار کیا۔وہ 800 کلوگرام کوکین امریکہ اسمگل کرنے کی کوشش میں پکڑے گئے تھے۔
فلوریس نے امریکی حکام پر اپنے بھانجوں کو ’’اغوا‘‘ کرنے کا الزام لگایا، تاہم جج نے دونوں کو منشیات اسمگلنگ کے جرم میں 18 سال قید کی سزا سنائی۔ انہیں 2022 میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں قیدیوں کے تبادلے کے تحت وینزویلا واپس بھیجا گیا۔
لیکن گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان دونوں بھانجوں کے ساتھ ساتھ ایک تیسرے بھانجے، کارلوس ایرک مالپیکا فلوریس، پر بھی نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا نکولس مادورو اور وینزویلا میں اس کے مجرمانہ ساتھی امریکہ میں منشیات کی بھرمار کر رہے ہیں جو امریکی عوام کو زہر آلود کر رہی ہیں۔خزانہ محکمہ اس حکومت اور اس کے قریبی ساتھیوں اور کمپنیوں کو ان کے مسلسل جرائم پر جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔
حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی فردِ جرم میں فلوریس پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے 2007 میں، دیگر الزامات کے علاوہ، لاکھوں ڈالر کی رشوت قبول کی تاکہ ایک ’’بڑے پیمانے پر منشیات فروش‘‘ کی وینزویلا کے نیشنل اینٹی ڈرگ آفس کے ڈائریکٹر سے ملاقات کروا سکیں۔
چیتم ہاؤس کے لاطینی امریکہ پروگرام کے سینیئر فیلو کرسٹوفر ساباتینی کے مطابق“ان کے ناقدین کے نزدیک وہ بہت بڑی بدعنوان، انسانی حقوق پامال کرنے والی اور ظالمانہ حکومت کا حصہ رہی ہیں۔
وہ اقتدار کے تخت کے پیچھے موجود طاقت تھیں۔ لیکن کسی بھی اچھی خفیہ طاقت کی طرح، ان کا کردار زیادہ نمایاں نہیں تھا، اس لیے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کتنی طاقتور تھیں۔





