شفیق لغاری کی رپورٹ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کورونا کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر کو انفلوئنزا کے ایک نئے وائرس کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا۔
این آئی ایچ (NIH) کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اس وقت 13 بیماریوں کے خلاف ویکسین مفت فراہم کر رہا ہے، جن میں انفلوئنزا کی ویکسین بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں ہر سال تقریباً 40 کروڑ ویکسینز استعمال کی جاتی ہیں۔
کمیٹی اراکین کے سوالات کے جواب میں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ جس نئے انفلوئنزا وائرس کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کا نام ایچ تھری این ٹو (H3N2) ہے، جو نہایت تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے اب تک تین مرتبہ ایڈوائزری جاری کی جا چکی ہے، تاہم اس وائرس سے بچاؤ کے لیے اس وقت مارکیٹ میں کوئی ویکسین دستیاب نہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تاحال اس نئے انفلوئنزا وائرس کے لیے بیرونِ ملک سے کوئی ویکسین درآمد نہیں کی، کیونکہ دنیا بھر میں ابھی تک اس وائرس کی کوئی ویکسین تیار نہیں ہو سکی۔
محکمہ صحت کے حکام نے خبردار کیا کہ اگر یہ وائرس ایک بار پھیل گیا تو یہ بھی کورونا کی طرح ناقابلِ کنٹرول ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری پھیلنے کے بعد تیار کی جانے والی ویکسین صرف ان افراد کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جو وائرس سے محفوظ ہوں، کیونکہ ویکسین بیماری سے بچاؤ کا ذریعہ تو ہے، لیکن بیماری لاحق ہونے کے بعد اس کا علاج نہیں۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوامی آگاہی میں اضافہ کیا جائے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔





