سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان میں ٹیلی وژن کا خواب 26 نومبر 1964 کو اس وقت حقیقت بنا جب پہلے ٹیلی ویژن مرکز کا افتتاح ایوب خان نے لاہور میں کیا۔ پھر نوے کی دہائی میں ایس ٹی این نامی پرائیویٹ سیٹلائٹ چینلز نے نشریات کا آغاز کیا۔ سنہ 2002 میں باقاعدہ طور پر جنرل پرویز مشرف نے نجی ٹی وی چینلز کو نہ صرف کام کرنے بلکہ نجی چینلز کو خبریں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام پیش کرنے کی بھی اجازت دی۔
اس سے قبل این ٹی این کو خبرنامے اور کرنٹ افیئرز پر پروگرام کرنے کی اجازت نہ تھی۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایوب خان کے دور سے لیکر اب تک میڈیا سنسرشپ کا تسلسل جاری ہے۔ اب نجی ٹی وی چینلز کے حالات بھی پی ٹی وی سے مختلف نہیں رہے۔ چند روز قبل کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ میڈیا فریڈم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ برس پانچ صحافی مارے گئے، چھ صحافیوں کو غداری اور دیگر مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، حکومتی کاروائیوں کے باعث کئی صحافیوں کی گرفتاریاں ہوئیں۔ جبکہ تین صحافیوں کو ہراساں کیا گیا اور ڈرایا دھمکایا گیا۔ مزید برآں ان دھمکیوں میں قتل، گرفتاریاں، غداری کے مقدمات، جبری آف ائیر آرڈرز، بینک اکاؤنٹ بند کرنا، ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنا اور ادارہ جاتی اشتہارات کی بندش وغیرہ شامل ہے۔
اس کے علاؤہ بھی صحافیوں کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے۔ جیسا کہ متعدد صحافیوں کو قومی شناختی کارڈ کی معطلی، بینک اکاؤنٹس بلاک کرنا اور پیکا ایکٹ کے تحت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آزادی رائے پر غیر ضروری قدغن کی وجہ سے سال 2025 کو میڈیا سنسرشپ کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
آزادی صحافت پر قدغن لگ جائے تو پھر objective رپورٹنگ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں تمام چینلز اور اخبارات پر شائع ہونے والی خبروں میں یکسانیت نے آزاد صحافت کی حالت زار پر سنگین سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان 2025 کے رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں چھ درجے گر کر 158 ویں نمبر پر آگیا ہے، جو 2024 میں 152 ویں نمبر پر تھا۔ حکومت کی سخت پالیسوں، پیکا کے اندھادھند استعمال اور کنٹرول شدہ اشتہاری پالیسیوں کے باعث پریس ایڈوائزری اور سنسر شپ بہت سے اخبارات کو بند کرنے پر مجبور ہوئے۔ اب بڑے میڈیا گروپس کے نیوز رومز خالی پڑے ہیں۔
پاکستان میں اب ریاستی بیانیے یا خواہش سے ہٹ کر لکھنا اور بولنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ چند دن پہلے ایکسپریس ٹریبیون میں زورین نظامی کے چھپنے والے آرٹیکل میں ایسا خطرناک کچھ نہیں تھا کہ اس کو ڈیلیٹ کروایا جاتا۔ زورین نے نئی نسل کے جذبات کا اظہار کیا کہ 25 کروڑ عوام میں سے نوجوانوں کی اکثریت اس ڈیجیٹل دور میں کیسے سوچتی ہے۔زورین نظامی کے آرٹیکل کا ہٹایا جانا وطن عزیز میں آزادیِ اظہارِ رائے پر بڑھتی ہوئے قدغن کی ایک اور افسوسناک مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف جنریشن زی یا ایلفا ہی نہیں بلکہ بومرز کی اکثریت بھی موجودہ نظام سے خائف نظر آتی ہے۔ جس ملک میں عدل غائب ہو، 27ویں آئینی ترمیم اور پیکا جیسے متنازع قوانین کو قوم پر مسلط کر دیا گیا ہو اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھی 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ کہنا پڑ جائے کہ یہ پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم حملہ ہے، جہاں مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت پنپ رہی ہو وہاں کیونکر عوام کی اکثریت ایسے نظام کو سپورٹ کرے گی؟
حالات اس نہج پر آگئے ہیں کہ ملک قرضوں پر چل رہا ہے ،سرمایہ کاری آنے کی بجائے سرمایہ کار ملک سے بھاگ رہے ہیں ،ایکسپورٹ مسلسل گر رہی ہے اور ماہانہ امپورٹ بل 6 ارب ڈالرز پر جا پہنچا ہے ۔ اس پہ اگر یہ نسل تنقید کرے تو مجرم قرار پائے گی تو وہ نوجوان اپنی فرسٹریشن کہاں نکالیں جو ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے خوار ہو رہے ہیں۔ روزگار ، تعلیم ، صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے، مگر یہاں ریاست اپنی ہی عوام کی بات سننے کے بجائے اسے کچلنے پر تلی ہے۔ سیاسی ، معاشی اور بدترین گورننس کا بوجھ اٹھائے یہ حکومت کب تلک اقتدار پر قابض رہتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہو سکتا ہے جنریشن ایکس، وائے اور زی کا صبر جلد جواب دے جائے اور یہاں بھی وہی کچھ ہو جو اردگرد کے ممالک میں ہوا ہے۔





