دی نیوز میںشائع ہونے والی مہتاب حیدر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ہدایات کو کھلے عام نظرانداز کرتے ہوئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے تین سبکدوش ہونے والے افسران نے اپنے آخری یومِ کار پر تقریباً 9 کروڑ روپے کے مالی فوائد کلیئر کروا کر وصول کر لیے۔
سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ 10 دسمبر 2025 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے برعکس، ایس ای سی پی کے سبکدوش چیئرمین اور دو کمشنرز کو ان کے آخری دن مجموعی طور پر تقریباً 9 کروڑ روپے کے حتمی مالی فوائد ادا کر دیے گئے۔
قائمہ کمیٹی، جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا کر رہے تھے، نے ہدایت کی تھی کہ ایس ای سی پی کے سبکدوش چیئرمین اور دیگر افسران کے حتمی مالی تصفیے روکے جائیں۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25 کی رپورٹ میں اٹھائے گئے آڈٹ اعتراضات پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کے فیصلے تک یہ ادائیگیاں معطل رہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں ایس ای سی پی کے چیئرمین اور کمشنرز کی تنخواہوں میں غیر معمولی 40 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا تھا، جو جولائی 2023 سے سابقہ تاریخ سے نافذ کیا گیا۔
بعد ازاں، قائمہ کمیٹی نے اپنی سرکاری پریس ریلیز میں بتایا کہ اراکین نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ آؤٹ گوئنگ کمشنرز کے تصفیے PAC میں معاملہ نمٹنے تک روکے جائیں۔ پریس ریلیز کے مطابق، چیئرمین ایس ای سی پی نے بتایا تھا کہ اگلا PAC اجلاس دسمبر 2025 میں متوقع ہے، جس کے ایجنڈے میں تنخواہوں میں اضافے سے متعلق آڈٹ اعتراض شامل ہوگا، لہٰذا اعتراض کے فیصلے تک کسی قسم کی ادائیگی نہ کی جائے تاکہ بعد میں ریکوری کے امکان سے بچا جا سکے۔ یہ پریس ریلیز سینیٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
ان واضح ہدایات کے باوجود، سابق چیئرمین ایس ای سی پی اور دیگر افسران نے 12 دسمبر 2025 کو، اپنے آخری یومِ کار پر، کمیشن کا اجلاس منعقد کیا اور انتظامیہ کو اپنے حتمی مالی تصفیے کلیئر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
آڈٹ کے مطابق، مالی سال 2023-24 کے دوران ایس ای سی پی کے چیئرمین نے 4 کروڑ 15 لاکھ 30 ہزار روپے کی تنخواہ و مراعات حاصل کیں، جو ماہانہ تقریباً 34 لاکھ روپے بنتی ہیں۔ اسی مدت میں ایس ای سی پی کے کمشنرز نے 3 کروڑ 58 لاکھ روپے وصول کیے۔
تین سالہ مدت کے تصفیے میں پروویڈنٹ فنڈ بھی شامل تھا، جو بنیادی تنخواہ کے 20 فیصد کے برابر تھا۔ تقریباً 30 لاکھ روپے ماہانہ بنیادی تنخواہ کے حساب سے 36 ماہ کے لیے یہ رقم تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ روپے بنتی ہے۔
اس کے علاوہ تین سال مکمل ہونے پر تقریباً 90 لاکھ روپے گریجویٹی بھی دی گئی۔ مزید برآں، ہر کمشنر کو ایک جاپانی گاڑی، جس کی مالیت تقریباً 90 لاکھ روپے تھی، محض اس کی فرسودہ قیمت کے 10 فیصد پر خریدنے کی اجازت دی گئی۔ اس طرح ہر سبکدوش ہونے والے کمشنر کو تقریباً 3 کروڑ روپے کے مالی فوائد کے ساتھ ایک گاڑی بھی ملی۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین اور کمشنرز کی تنخواہوں میں بے ضابطہ اضافے سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے آڈٹ اعتراضات تاحال حل طلب ہیں۔
اس نمائندے نے ایس ای سی پی کے ترجمان سے سوالات کیے، جنہوں نے موقف اختیار کیا کہ چیئرمین سمیت تمام کمشنرز کے حتمی تصفیے قانون اور طریقہ کار کے مطابق جاری کیے گئے اور اس وقت کوئی ایسی ہدایت، حکم یا پابندی موجود نہیں تھی جو ان ادائیگیوں کو روکتی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اگر کسی عوامی عہدیدار کو دی گئی کوئی ادائیگی بعد میں کسی مجاز اتھارٹی یا فورم کی جانب سے غیر قانونی قرار دی جاتی ہے تو وصول کنندہ قانون اور ضابطے کے مطابق رقم واپس کرنے کا پابند ہوگا۔





