شفیق لغاری کی رپورٹ
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) سے متعلق سنگین مالی و انتظامی مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی، جہاں قومی ایئرلائن کو درپیش اربوں روپے کے نقصانات کا انکشاف سامنے آیا۔
پی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کے پاس مجموعی طور پر 34 طیارے ہیں، جن میں سے صرف 18 طیارے آپریشنل ہیں جبکہ باقی طیارے مختلف وجوہات کی بنا پر گراؤنڈ ہیں۔ تاہم حکام نے انکشاف کیا کہ آپریشنل طیارے بھی پی آئی اے کے لیے خسارے کا باعث بنے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جب آپریشنل طیارے مرمت اور اوورہال کے لیے بھیجے گئے تو مرمتی کام میں غیر معمولی تاخیر کے باعث پی آئی اے کو 21 ارب 81 کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ 90 کروڑ روپے سے زائد کی لیز رقم بھی پی آئی اے کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑی۔
پی آئی اے حکام کے مطابق طیاروں کو سالانہ مرمت اور دیکھ بھال کے لیے 25 دن تک گراؤنڈ کیا جانا چاہیے، مگر عملی طور پر پی آئی اے کے طیارے اوسطاً کم از کم 44 دن تک گراؤنڈ رہے، جبکہ بعض طیارے 243 دن تک بھی غیر فعال رہے۔ یوں ہر طیارہ سالانہ اوسطاً 123 دن تک گراؤنڈ رہا، جو ادارے کے لیے مسلسل خسارے کا سبب بنا۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ ناکارہ طیاروں اور فاضل پرزہ جات کو بروقت نیلام نہ کرنے کے باعث پی آئی اے کو ساڑھے 8 ارب روپے سے زائد کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق ناکارہ طیاروں اور اضافی پرزوں کو فہرست میں شامل نہ کرنے کے باعث ریکارڈ خسارہ سامنے آیا۔
اجلاس کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ پی آئی اے کے طیارے چاہے آپریشنل ہوں یا گراؤنڈ، دونوں صورتوں میں ادارہ خسارے سے دوچار رہا۔ اگرچہ پی آئی اے کی نیلامی ہو چکی ہے، مگر مالی بدانتظامی اور خسارے کی تصویر ابھی مکمل طور پر واضح ہونا باقی ہے۔
پی آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نیلام ہونے والے طیاروں کی باقاعدہ گریڈیشن کی جائے گی، اور ان کی فنکشنل حالت کے مطابق قیمت کا تعین کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اگر نیلامی کے دوران کسی قسم کا خسارہ سامنے آیا تو اس کی ادائیگی نیلام دہندہ کو پی آئی اے کی جانب سے کی جائے گی۔





