• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, جون 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

شنگھائی کا خواب ،درختوں کی قربانی، شجرکاری کا ڈھونگ۔۔اسلام آباد کی بنجر حقیقت

by ویب ڈیسک
جنوری 6, 2026
in بلاگ
0
شنگھائی کا خواب ،درختوں کی قربانی، شجرکاری کا ڈھونگ۔۔اسلام آباد کی بنجر حقیقت
0
SHARES
14
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

رافعہ زاہد کا بلاگ

اسلام آباد، جو کبھی سرسبز درختوں، کشادہ شاہراہوں، خاموش فضا اور متوازن منصوبہ بندی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج تیزی سے اپنی اصل شناخت کھو رہا ہے۔ ترقی کے نام پر جاری بے ہنگم تعمیرات، درختوں کی وسیع پیمانے پر کٹائی اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے دارالحکومت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سبزہ کم اور کنکریٹ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

چین میں درختوں یا جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور اس پر سخت قانونی سزائیں مقرر ہیں۔ معمولی یا درمیانے درجے کی غیر قانونی کٹائی پر مجرم کو تین سال تک قید یا مختصر حراست اور جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر یا سنگین جرائم میں یہ سزا تین سے سات سال قید اور بھاری جرمانے تک جا سکتی ہے۔ انتہائی سنگین صورتوں میں سات سال یا اس سے زیادہ قید بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، غیر قانونی طور پر کٹے ہوئے درختوں کے بدلے حکم دیا جاتا ہے کہ مجرم کو پانچ سے دس گنا زیادہ تعداد میں نئے درخت لگانے ہوں، اور اگر وہ خود پودے نہ لگا سکے تو حکام اس کے خرچ پر لگاتے ہیں۔ حقیقی مثال کے طور پر، نینگشیا ہائی کورٹ نے ایک شخص کو 503 پیپر ملبری درخت غیر قانونی طور پر کاٹنے پر تین سال قید مع معلق سزا، جرمانہ اور کٹے ہوئے درختوں سے زیادہ تعداد میں پودے لگانے کا حکم دیا۔ یہ قوانین ظاہر کرتے ہیں کہ چین میں درختوں کی حفاظت کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اور ترقی یا ذاتی مفاد کے لیے جنگلات کی تباہی پر نہ صرف قانونی بلکہ مالی اور ماحولیاتی ذمہ داری بھی عائد کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی کے ماڈل کے مطابق اسلام آباد کو ڈویلپ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبے ماحولیاتی تباہی اور درختوں کی بے دریغ کٹائی کے سبب سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، چین میں غیر قانونی درخت کی کٹائی پر سخت قانونی کارروائی، 3 سے 7 سال تک قید، بھاری جرمانہ، اور کٹے ہوئے درختوں کی پانچ سے دس گنا تعداد میں شجرکاری کا حکم دیا جاتا ہے، تاکہ شہر کے سبزہ اور ماحول کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے برعکس، اسلام آباد میں CDA مسلسل درخت کاٹ رہا ہے، شکرپڑیاں اور دیگر سبز علاقے بنجر ہو چکے ہیں، اور شہریوں کا ماحولیاتی تحفظ بالکل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس تضاد کے پیش نظر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر CDA ترقی کے نام پر شہر کے قدرتی ماحول کو برباد کر رہا ہے، تو اسلام آباد کیسے شنگھائی جیسا ماڈل بن سکے گا؟ صرف انفراسٹرکچر کی نقل سے شہر جدید نہیں ہوگا، بلکہ قدرتی حسن، سبزہ اور شہری سکون کے تحفظ کے بغیر یہ ترقی خالی دعوے اور نقصان کے مترادف ہے۔

اسلام آباد میں درختوں کی وسیع پیمانے پر کٹائی کے باوجود شجرکاری کے دعوے اکثر ظاہرر سازی یا عوامی تاثر بڑھانے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں شکرپڑیاں، ایکسپریس وے، پارک روڈ اور H-8 کے علاقوں میں تقریباً 803 ایکڑ جنگلاتی اراضی ضائع ہو چکی ہے اور مارگلہ ہلز میں پچھلے تین سالوں میں تقریباً 3ہزاردرخت آگ اور کٹائی کی وجہ سے ختم ہو چکے ہیں، جبکہ شجرکاری مہمات میں صرف چھوٹے یا نو عمر پودے لگائے جاتے ہیں، جو بڑے اور بالغ درختوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سی ڈی اے اور نجی ادارے 50ہزارنئے پودوں یا 33ہزار سات سو شجرکاری کے اقدامات کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر یہ کٹائی کی اصل شدت اور شہری ماحول پر اثرات کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موجودہ شجرکاری کی مہمات حقیقی تحفظ کی بجائے سیاسی یا PR مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، اور شہر کے سبز ہرا اور سکون کو بحال کرنے کے لیے شفاف اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے جو کہ اسلام آباد کے عہدیداران کی زمہ داری ہے لیکن وہ سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں؟

گزشتہ ایک ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں، بالخصوص شکرپڑیاں، ایکسپریس وے، پارک روڈ اور H-8 کے اطراف میں درختوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی گئی۔ شکرپڑیاں کے چار بڑے حصے، جو مجموعی طور پر تقریباً پندرہ ایکڑ پر محیط تھے، آج بنجر اور ویران منظر پیش کر رہے ہیں۔ وہ علاقے جہاں کبھی گھنا جنگل ہوا کرتا تھا، اب وہاں سے سڑکیں اور ایکسپریس وے صاف دکھائی دیتے ہیں۔

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ کٹائی کے دوران صرف پیپر ملبری کے درخت ہٹائے گئے جو پولن الرجی کا باعث بن رہے تھے۔ تاہم شہریوں اور ماحولیاتی ماہرین اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق شکرپڑیاں اور دیگر علاقوں میں شیشم سمیت دیگر انواع کے درخت بھی کاٹ دیے گئے۔ شہری کہتے ہیں کہ اگر واقعی تمام درخت پیپر ملبری تھے تو اس کا شفاف اور سائنسی ثبوت پیش کیا جائے۔

سی ڈی اے کی جانب سے شکرپڑیاں کے جنگل کو پریس ریلیز میں “ناجائز تجاوزات” قرار دینا بھی شدید تنقید کا موضوع بنا۔شہری اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا قدرتی جنگلات کو تجاوزات کہنا درست ہے؟

سال 2001 سے 2024 کے دوران تقریباً 14 ہیکٹر سے زیادہ درختوں کا نقصان ہوا۔مارگلہ ہلز میں پچھلے تین سالوں میں 146 جنگلاتی آگ کے واقعات ہوئے، تقریبا 3 ہزار درخت تباہ ہوئے۔اسلام آباد کے کل گرین ایریا میں سال 2010 سے سال 2020 کے دوران تقریباً 36 فیصد کمی ہوئی۔میٹرو بس اور دیگر منصوبوں کے دوران 600 پرانے درخت اور 4ہزار چھوٹے درخت اور جھاڑیاں ضائع ہوئیں۔ پاکستان کی مجموعی جنگلاتی کوریج سال 1992 سے سال 2025 میں تقریباً 18 فیصد کم ہو چکی ہے۔

عوامی مطالبہ اب یہ ہے کہ شفاف سائنسی تحقیق کے تحت درختوں کی کٹائی کا جائزہ لیا جائے۔سبز بیلٹس اور پارکس کو ناجائز تجاوزات کے بہانے ختم نہ کیا جائے۔شہری سہولیات اور ویسٹ مینجمنٹ کے مسائل کے حل کے بغیر مزید ترقیاتی منصوبے نہ چلائے جائیں۔شجرکاری مہمات کے ذریعے کٹے ہوئے درختوں کی واپسی اور سبزہ کی بحالی کی جائے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
سینیٹ قائمہ کمیٹی کی ہدایات کو ہوا میں اُڑا دیا گیا، ایس ای سی پی کے 3 افسران آخری دن 9 کروڑ روپے کے مالی فوائد سمیٹ کر رخصت

سینیٹ قائمہ کمیٹی کی ہدایات کو ہوا میں اُڑا دیا گیا، ایس ای سی پی کے 3 افسران آخری دن 9 کروڑ روپے کے مالی فوائد سمیٹ کر رخصت

خیبر پختونخوا حکومت کا پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار

پی آئی اے نیلام مگر خسارے کی کہانی ختم نہ ہوئی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اربوں کے نقصانات کا انکشاف

 پاکستان ایئر فورس کی جانب سے پہلی بار پاک بھارت فضائی معرکے کی سنسنی خیز تفصیلات جاری کر دی گئیں ،پاک فضائیہ کے خطرناک ” کوبراز ” آخرہیں کون ؟

 پاکستان ایئر فورس کی جانب سے پہلی بار پاک بھارت فضائی معرکے کی سنسنی خیز تفصیلات جاری کر دی گئیں ،پاک فضائیہ کے خطرناک " کوبراز " آخرہیں کون ؟

پاکستان نے جو سعودی عرب کا دو ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے اس کے بدلے ریاض جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے پر غور کررہا ہے، رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ 

پاکستان نے جو سعودی عرب کا دو ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے اس کے بدلے ریاض جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے پر غور کررہا ہے، رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ 

26 سال بعد دہلی پولیس کے ہاتھوں گرفتار، پنجاب میں جوجندر سنگھ کے نام سے بڑھئی کی زندگی گزارنے والا شخص در اصل کون نکلا ؟ جرائم کی دنیا کی سنسنی خیز اور ناقابل یقین کہانی

26 سال بعد دہلی پولیس کے ہاتھوں گرفتار، پنجاب میں جوجندر سنگھ کے نام سے بڑھئی کی زندگی گزارنے والا شخص در اصل کون نکلا ؟ جرائم کی دنیا کی سنسنی خیز اور ناقابل یقین کہانی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In