رافعہ زاہد کا بلاگ
2 نومبر کو وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے وینیٹی فیئر کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر وینزویلا میں زمینی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی۔ ان کے بقول، اگر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ زمینی سطح پر کسی سرگرمی کی اجازت دیتے ہیں تو یہ جنگ کے مترادف ہوگا، اور ایسی صورت میں کانگریس کی اجازت درکار ہوگی۔
چند ہی دن بعد ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے بند کمروں میں کانگریس کے اراکین کو بھی یہی پیغام دیا کہ وینزویلا کے اندر کسی بھی زمینی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ان کے پاس قانونی جواز موجود نہیں۔
تاہم، محض دو ماہ بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وہی قدم اٹھا لیا جس کے بارے میں پہلے کہا جا رہا تھا کہ یہ ممکن نہیں۔ انتظامیہ نے ایک ایسی کارروائی کی جسے ٹرمپ نے “وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے کی کارروائی” قرار دیا، اور اس دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ یہ سب کچھ کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ نومبر میں خود ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ زمینی کارروائی کے لیے انہیں کانگریس کی اجازت درکار نہیں، تاہم انتظامیہ کے اندر اس مؤقف پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں تھا۔
فی الحال مشن کا دائرہ کار مادورو کو اقتدار سے ہٹانے تک محدود دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کارروائی میں وینزویلا کی سرزمین کے اندر حملے شامل تھے ۔وہی صورتحال جسے کچھ امریکی عہدیدار پہلے غیر قانونی قرار دے چکے تھے۔ نومبر کے اوائل میں CNN نے رپورٹ کیا تھا کہ انتظامیہ اس نوعیت کی کارروائی کے لیے محکمہ انصاف سے نئی قانونی رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے نہ صرف مادورو کی گرفتاری بلکہ وینزویلا کو چلانے اور اس کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کی باتیں بھی کیں، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ یہ کارروائی محض گرفتاری تک محدود نہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت کسی خودمختار ملک کے اندر فوجی کارروائی خواہ وہ کسی غیر ملکی رہنما کو ہٹانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو نیا تصور نہیں، لیکن اس کے باوجود وینزویلا کا معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
بدلتے مؤقف اور قانونی ابہام
اس کارروائی کے حوالے سے سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کوئی واضح اور یکساں قانونی جواز پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بظاہر کانگریس کو پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئی، حالانکہ ایسے معاملات میں یہی کم از کم آئینی تقاضا سمجھا جاتا ہے۔
ابھی تک کارروائی کے مکمل قانونی جواز کی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آ سکی، اور جو اشارے ملے ہیں وہ خاصے مبہم ہیں۔ ری پبلکن سینیٹر مائیک لی کے مطابق، وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا کہ یہ کارروائی مادورو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔
ان کے بقول، یہ اقدام امریکی آئین کے آرٹیکل ٹو کے تحت صدر کے اختیارات میں آ سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ امریکی اہلکاروں کو کسی فوری یا ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے کارروائی کر سکتے ہیں۔
چند گھنٹوں بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی یہی مؤقف دہرایا اور کہا کہ مادورو کے خلاف امریکہ میں منشیات کے مقدمات قائم ہیں، اور وہ صرف اس لیے قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے کہ وہ کاراکاس کے محل میں رہتے ہیں۔
بعد ازاں مارکو روبیو نے بھی یہ مؤقف اپنایا کہ فوج ایک “قانون نافذ کرنے کے عمل” میں معاونت کر رہی تھی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے کئی افراد ہیں جو امریکہ میں فردِ جرم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر انہیں گرفتار کرنے کے لیے کسی ملک پر فوجی حملہ کرنا امریکی روایت نہیں۔
ابتدا میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا میں منشیات کے اسمگلروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ عالمی سطح پر وینزویلا منشیات کی اسمگلنگ میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کرتا۔ بعد میں کہا گیا کہ وینزویلا سے “برے لوگ” امریکہ بھیجے جا رہے ہیں، اور پھر خود ٹرمپ نے تیل، زمین اور دیگر اثاثے واپس لینے کی بات کر دی۔
یہ تضادات اس قدر واضح تھے کہ سینیٹر لنڈزی گراہم جیسے سخت گیر سیاستدان بھی انتظامیہ کے مؤقف میں “وضاحت کی کمی” کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے۔





