It is over ..
Vs
Is it over ??
Can this be over ??
It is over
زورین نظامانی کے اس آرٹیکل نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی،ہر ایک کی زبان پر وہ ڈیلیٹ کیا ہوا آرٹیکل تھا ۔۔بہت سوں نے اپنی اپنی فیس بک پر بھی شیئر کیا ،کسی نے گروپس میں فارورڈ کیا ۔۔ابھی اسکو ہفتہ بھی نا ہونے پایا کہ ۔۔۔ایک ۔۔۔عمیری۔۔۔نامی وڈیو کا چرچا سوشل میڈیا پر دیکھا،کینیڈا اور پاکستان کے وقت کا دن رات کا فرق ہے ،اور کچھ میں کینیڈا کے ٹائم کے مطابق بھی بہت لیٹ سو کے اٹھتی ہوں تو پاکستان میں ویسے ہی رات کے دو تین بج چکے ہوتے ہیں ۔۔
سوشل میڈیا کو اوپن کیا تو ہر طرف ایک ہی نام عمیری ۔۔۔
جبکہ
It is over …
اس آرٹیکل کی بازگشت کہیں دب چکی تھی ۔۔
ہماری زہنی بیمار قوم دوسروں کی وایرل ہونے والی نازیبا اور رومانس کی وڈیوز کی اتنی شیدائی ہے کہ اسکو وایرل کرنے کے لئے مختلف طرح کے کمنٹس کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور تو اور بہت سے لوگوں نے اس پر وی لاگز بھی کر ڈالے ۔۔
یقین کریں ہر پاکستانی کو دیکھ کر لگا ۔۔جیسے انہیں عمیری کی وڈیو نہیں جینے کا کوئی بہانہ ملا ہو ۔۔کوئی امید ملی ہو ۔۔کیونکہ ہر ایک کے چہرے پر ایکسائٹمنٹ ہی اتنی تھی ۔۔
میں حیران ہوں ۔۔ہم کیسے لوگ ہیں ؟!ہم ایسی ذہنیت رکھتے ہوئے کیونکر ترقی کر پائیں گے ۔۔ہم ان چیزوں سے کب نکلیں گے ؟؟
میں جب کینیڈا آئی تو شروع میں بہت سے دوستوں نے بہت ترسے ہوئے لہجے میں پوچھنا وہاں کلبز کیسے ہیں ۔۔ڈرنکس بھی کرتے ہیں لوگ ۔۔اس طرح کے سوال اور انکے لہجے میں چسکہ نما ترس صاف جھلک رہا ہوتا تھا
میں انکو بتاتی تھی ۔۔یہاں روٹین ہے مگر کوئی بھی اپنے ویک اینڈ کے علاوہ ڈرنک کرنا پسند نہیں کرتا ،یہاں جیسے پاکستان میں ہر سٹور سے نسوار مل جاتی ہے یہاں پر شراب مل جاتی ہے مگر کوئی بھی اپنے ویک اینڈ ز یا تہوار کے علاوہ خریدنا پسند نہیں کرتے ،،یہاں جب سمندر کنارے خواتین بکنی پہن کے گھوم رہی ہوتی ہیں تو لڑکی ہونے کے باوجود مجھ میں ہمت نہیں ہوپائی کہ میں انکا نظروں سے ایکسرے کر سکوں ،کوئی بہت حسین چہرہ سامنے بھی آجائے تو اسے دوبارہ دیکھنے کے لئے سو طرح سے نظروں کا زاویہ بدلنا پڑتا ہے
کلبز میں برہنہ رقص بھی ہو رہا ہو تو نگاہوں کو نیچے رکھنا پڑتا ہے ،کیونکہ اس معاشرے میں باشعور انسان بستے ہیں ،یہاں سب کو اخلاقیات کی بیماری ہے ،آپ مائنس ٹمپریچر میں سردی میں ٹھٹھر رہے ہوں تو کوئی خدا ترس آپکو گاڑی میں گھر تک لفٹ تو دے دے گا مگر دوسری نظر آپکی طرف دیکھے گا بھی نہیں ،آپ اپنا موبائل نمبر ہر دیوار پر بھی لکھ دیں کوئی اسکو ڈائل کرنے کی جرات بھی نہیں کرے گا ،،یہاں جانوروں کو جانور کہہ کر پکارنا اخلاقاً جرم ہے
آپ نے کسی کے کتے بلی کی تعریف کرنی ہو تو منہ پھاڑ کے نہیں بولیں گے کہ آپکا کتا بڑا پیارا ہے ،،کیونکہ یہاں کتا لفظ بولنے والے کو بھی کتا ہی تصور کیا جاتا ہے اس لئے بولتے ہیں آپکا بےبی بڑا پیارا ہے
ہمارے معاشرے میں گھروں میں بچپن سے ہی سکھایا جاتا ہے کہین بلی کتا دیکھو تو اسکو وٹا مارو جوتا مار و اور بس چلے تو پکڑ کے باندھ لو زخمی کر دو یا مار دو
یہاں ۔۔۔تو آپ اپنے ہی گھر میں لگے درخت کی شاخ اپنی مرضی سے نہیں توڑ سکتے ۔۔
میں کبھی سوچتی ہو ں پہلے بھی حساس تھی مگر بہت زیادہ کیونکر ہو گئی پھر جانا کیونکہ انسانوں کے معاشرے میں رہتی ہوں تو یہاں کے ہی اطوار سیکھ گئی ہوں ۔۔اس لئے اب انسان اور جانوروں میں فرق واضح محسوس ہوتا ہے ۔۔
یہاں کے کافر لوگوں میں رہ کر میں نے وہ تمام عادتیں اپنا لیں جو ہمارے دین نے ہمیں سیکھائی ہیں ۔۔نہیں بلکہ ہماری اسلامی ریاست میں دین پڑھایا جاتا ہے ،سیکھنے اور عمل کرنے کا موقع تو ان کافروں کے ملک میں آلر ملتا ہے ،،انسانی حقوق پر کام کرنے والی کوئی ایک جی او نہیں ،لیکن یہان بسنے والا ہر انسان ہیومن رایٹس پر عمل کرتا ہے ۔۔کینڈا میں پہلی برف پڑی تو میں ڈرایئو وے صاف کر رہی تھی ،جب کھڑکی سے میرے بوڑھے گورے لینڈ لارڈ نے دیکھا تو چلا آیا اور بتایا کہ ایسے کام نہیں ایسے کرتے ہیں مجھ کو تو سنوشاول ہی نہیں ٹھیک سے پکڑنا آرہا تھا ۔میں نے تو اپنی خفت مٹانے کو بولا کہ دراصل گھر میں کبھی جھاڑو بھی نہیں لگایا تھا اس لئے مجھے آئیڈیا نہیں ہو رہا تھا ،میرے لہجے سے اس نے پتہ کیسا محسوس کیا وہ دن اور آج کا دن وہ نا صرف ڈرائیو وے بلکہ میری گاڑی پر پڑی برف بھی صاف کر دیتا ہے ،اسکی بیوی نے بتایا کہ وہ کہتا ہے بالکل لا بالی سی لگتی ہے لاپروا سی جیسے اس کو گھر میں بہت لاڈ سے رکھا گیا ہو تو مجھے اسے برف صاف کرتے دیکھ کر اچھا نہیں لگتا ۔۔اسے کبھی بھی برف نہیں ہٹانے دینی میں خود ہی کر لیا کروں گا ۔۔
مائنس ٹمپریچر پر جہاں کوئی پیسے لے کر بھی برف ہٹانے کو تیار نہیں ہوتا وہاں وہ لینڈ لارڈ میرے سو کے اٹھنے سے پہلے ہی برف کا صفایا کر چکا ہوتا ہے تاکہ مجھے شرمندگی نا ہو ،،
یہ عجیب ہی لوگ ہیں ۔۔مجھے تو انسانوں میں رہنے کی عادت نا تھی ،
خیر بات کر رہے ہیں ۔۔عمیری نام وڈیو کی کہ دوسروں کی وڈیوز دیکھ کر انکے عیب اچھال کر یہ ذہنی بیمار لوگ خوشی محسوس کرتی ہو اور اس پر ہی اپنے تمام دکھ سکھ بھول جاتی ہو ۔۔
آپ کس قوم کو پڑھا رہے ہیں ۔۔آپ کس قوم کو بتا رہے ہیں ۔۔
It is over !!!
یہ تو ایک نازیبا وڈیو دیکھتے ہی over ہو جاتی ہے
یقین کریں یہ تو انکو چسکا پہنچانے والی انکی بیماری گندی ذہنیت کو شفا دینے والی وڈیو لیک ہو گیے تو یہ سب بھول گئے اور خدا نا کرے اس ملک میں کوئی سانحہ ہوا ہوتا تو وہ الزام بھی اسٹیبلیشمنٹ پر لگتا کہ توجہ ہٹانے کے لئے سب کیا گیا ہے ۔۔
آپ دوبارہ ایسے کالم لکھ کر خود کو زحمت نا دیں ۔۔یہ ہماری ہی اسٹیبلیشمنٹ کی ہمت ہے کہ انہوں نے اس قوم کو سنبھالا ہوا ہے ورنہ جو حالات ایک وڈیو وایرل ہونے کے بعد ہوئے ہیں میں اس کالم نگار سے پوچھنے پر مجبور ہو گیی ہوں کہ آپ اس قوم سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کو انتشار پسند زہنوں کو آپکا کالم صرف اپنے پروپیگنڈے کی حد تک پسند آیا اور باقی عوام کو عمیری کی وڈیو تو آپ مجھے بتائیے کہ
Is it over ???
Can this be over ???
تو پلیز زورین نظامانی
Don’t overreact
اور پلیز دوبارہ یہ سوال نا اٹھائیے گا کہ آپ ڈںڈے کے زور پر ہمیں حب الوطنی کے لیکچرز کیوں دیتے ہیں ۔۔
چلیں ڈنڈے کے ڈر سے سہی ہم انتشار پسندی سے باز تو رہتے ہیں ،،اس ملک اور ملک کے اداروں سے محبت تو کرتے ہیں ۔۔چاہے مجبوری میں سہی ۔۔ورنہ ہم کو مارنے کے لئے صرف ایک نازیبا وڈیو کا نشانہ ہی کافی ہو گا ۔۔۔
اس عوام اور قوم سے التجا ہے کہ خود کو اس زہنی پسماندگی سے نکالیں ۔۔
وگرنہ یقین کریں
It is over …..!!
فرزانہ صدیق کرائم رپورٹر





