ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں ابتدا میں ڈکیتی کے دوران قتل قرار دیا جانے والا واقعہ تفتیش کے بعد ایک سفاکانہ غیرت کے نام پر قتل ثابت ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق قطر کے شہر دوحہ میں مقیم رہنے والی ایک خاتون کو لالہ زار کے علاقے میں واقع اپنے والدین کے گھر کے اندر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ علاقہ واہ کینٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر قطر میں موجود مقتولہ کے شوہر نے کی، جس میں ایک چچا بھی شامل تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ ایک ہفتہ قبل ہی پاکستان واپس آئی تھیں، تاہم اپنی نو ماہ کی بیٹی کو ساتھ نہیں لائیں۔ انہیں قطر سے دو چچاؤں کے ذریعے پاکستان لایا گیا، جسے اب تفتیشی حکام محض ایک بہانہ قرار دے رہے ہیں۔
قتل کی رات مبینہ طور پر مسلح رشتہ دار گھر میں داخل ہوئے، اس سے پہلے مقتولہ کی خالہ کو فون پر ہدایت دی گئی کہ وہ دروازہ کھول دے۔
سب انسپکٹر آصف اقبال خان کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کا شوہر فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھا اور حملے سے چند لمحے قبل مبینہ طور پر ہدایات دے رہا تھا۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ویڈیو کال کے دوران شوہر نے مقتولہ کی خالہ کو ہدایت دی کہ وہ مقتولہ کی بہن کو کمرے سے باہر نکال دے تاکہ حملہ آوروں کے لیے راستہ صاف ہو جائے۔ چند ہی لمحوں بعد دو مسلح افراد نے پستول نکال کر مقتولہ پر متعدد گولیاں چلائیں، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ایک اور ملزم مبینہ طور پر دروازے پر پہرہ دیتا رہا۔
پولیس کے مطابق قتل کا محرک شوہر کے وہ شکوک و شبہات تھے، جن کے تحت اس نے اپنی بیوی پر بیرون ملک قیام کے دوران ناجائز تعلقات کا الزام عائد کیا تھا۔





